.

معمرافراد کو ’زندگی کے مصائب‘ سے نجات دلانے پر نرس کو 27 سال قید

ملزم اپنی ماں سمیت کئی عمر رسیدہ اقارب کو بھی ابدی نیند سلا چکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیم کی ایک عدالت نے ایک مرد نرس کو شدید بیمار معمر افراد کو بیماری کی مصیبت سے نجات دلانے کے لیے انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کے الزام میں ستائیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ملزم ایفو بوب کو جمعرات کو بروج شہر کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے ملزم نے شدید بیمار اور بوڑھے 10 سے 20 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا تاہم مقتولین کی شناخت نہیں کی گئی۔

تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں بعض مقتولین کی نشاندہی بھی کی ہے اور بتایا ہے کہ ملزم نے پانچ افراد کوعمدا قتل کیا۔ مقتولین میں ملزم کی اپنی والدہ اور دیگر قریبی عزیز بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ بیلجین حکام نے ایوف کو مئی 2014ء کو حراست میں لیا تھا۔ وہ شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ ہے۔ اس نے اپنے ایک نفسیاتی معالج کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ وہ دسیوں افراد کو دانستہ طورپرقتل کرچکا ہے۔

قتل ہونے والے افراد میں زیادہ تر معمر افراد ہیں۔ ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے انہیں شدید بیماری اور بڑھاپے کے عذاب سے نجات دلانے کے لیے اسپتال میں زیرعلاج بعض مریضوں کی دوائی میں زہر ملا دی تھی جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔

ملزم ایفو بوب سنہ1978ء میں مینان شہر کے علاقے کورٹرا میں ایک اسپتال میں بہ طور نرس بھرتی ہوا تھا۔ اس نے اسپتال میں 32 سال خدمات انجام دیں۔