.

ایرانی رجیم احتجاجی مظاہروں کے بعد آیندہ سال کے بارے میں تشویش میں مبتلا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی شورائے نگہبان کے سربراہ احمد جنتی نے کہا ہے کہ ملک میں حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے بعد سے حکمراں رجیم کو یہ خدشات لاحق ہوچکے ہیں کہ آیندہ سال کیا ہوگا۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریب سمجھنے جانے والے احمد جنتی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی حکام یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ملک میں حالیہ مظاہروں کا براہ راست تعلق پست تر معیار زندگی سے ہے۔انھوں نے کہا:’’ جب معاشی صورت حال بدتر ہوتی ہے تو لوگ احتجاج کرنا شروع کردیتے ہیں۔وہ غُربت کے ساتھ گزارہ نہیں کرسکتے‘‘۔

ان کا کہنا تھا:’’ مجھے یہ تشویش لاحق ہے کہ آیندہ برسوں کے دوران میں کیا ہوگا ۔ہمیں لوگوں کی آوازوں پر کان دھرنا ہوں گے اور آج سے ان کے درد کو سمجھنا ہوگا،ہمیں خود کو شہریوں سے الگ تھلگ نہیں کرنا چاہیے۔ان کے رہنے کی صورت حال بہت ہی خراب ہوچکی ہے‘‘۔

احمد جنتی نے مظاہروں کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں کہا کہ ’’ اگر رجیم سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر مقابلہ کرتا تو معاملات اتنے نہیں بگڑتے۔اگر ان ویب گاہوں کو مکمل طور پر ممنوعہ قرار نہ بھی دیا جاتا تو ان پر کم سے کم کنٹرول تو ضرور ممکن تھا اور ہم اس وقت ان کی رفتار کم کرسکتے تھے‘‘۔

واضح رہے کہ ایران کی وزارت داخلہ نے 3 فروری کو ایک رپورٹ جاری کی تھی۔اس میں مظاہروں کی وجوہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ ’’ لوگوں کا نظام پر اعتماد ختم ہوچکا ہے۔ ادارے اپنا اثر ورسوخ کھو چکے ہیں جبکہ ملک کی صلاحیت اور وسائل کو ملحوظ رکھے بغیر کیے گئے سیاسی اور انتخابی وعدوں نے لوگوں کی توقعات بہت بلند کردی تھیں اور وہ پوری نہیں ہوسکتی ہیں‘‘۔

وزارت داخلہ نے ایرانی صدر حسن روحانی کو بھیجی گئی رپورٹ میں مزید کہا تھا:’’احتجاجی مظاہروں کے دوران میں بلند کیے جانے والے نعروں میں 30 فی صد اقتصادی اور 70 فی صد سیاسی نوعیت کے تھے ۔ایران کے 80 شہروں کے 75 فی صد عوام نے مظاہرین سے ہمدردی کا اظہار کیا تھا‘‘۔

ان احتجاجی مظاہروں کے شرکاء ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی اور ان کے اقتدار کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے تھے۔ مظاہروں کے دوران بائیس افرا د ہلاک ہوگئے تھے اور حکام نے کم سے کم پانچ ہزار کو گرفتار کر لیا تھا۔ان میں سیکڑوں اب بھی پابندِ سلاسل ہیں اور ان میں سے بہت سوں کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ انھیں کون سی جیلوں میں رکھا جارہا ہے۔سات افراد دوران حراست پراسرار طور پر مارے گئے تھے لیکن ایرانی حکومت نے صرف دو کی ہلاکت تسلیم کی ہے اور ان کے بارے میں بھی یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ انھوں نے حراست کے دوران میں خودکشی کر لی ہے۔