.

ایران کے ’صوفی شیعہ‘ بھی بنیاد پرست حکومت کے ظلم کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکومت کے مظالم کا شکار وہ تمام شہری ہیں جو کسی نا کسی طرح حکومتی مظالم پر نکتہ چینی کرتے ہیں مگر ان میں ایران کے وہ صوفی شیعہ بھی شامل ہیں جنہیں معاشرے میں ہمیشہ خاموش رہنے والا طبقہ شمار کیا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں ایرانی فوج نے دارالحکومت تہران میں ایک سرکردہ صوفی شیعہ رہ نما نور علی تابندہ کے گھر کا محاصرہ کیا اور ان کے مریدین پر تشدد شروع کردیا۔ یہ تمام لوگ علی تابندہ کے دفاع کے لیے اپنت ’پیر‘ کے گھر پر جمع ہوئے تھے۔

اس واقعے کی ایک فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہے جس میں ایرانی فوج اور پولیس کو نور علی تابندہ کے مریدوں پر لاٹھیاں برساتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ہفتے میں اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔ چند ہی روز قبل ایرانی پولیس اور فوج کی بھاری نفری نے ایران میں شیعہ صوفی رہ نما کے گھر پر دھاوا بولا تھا۔

ایران میں شیعہ صوفی بزرگ کو ’الحاج حضرت نورعلی تابندہ مجذوب علی شاہ‘ کہا جاتا ہے جب کہ ان کے مرید انہیں صوفی سلسلہ نعمت اللہ الجنابادیہ کے قطب درویش قرار دیتے ہیں۔

ایران کے صوفی مسلک کی مقرب ویب سائیٹ ’مجذبان نور‘ کے مطابق صوفی بزرگ کے گھر پر چھاپہ مارنے اور وہاں پر جمع افراد کو منتشر کرنے کا مقصد ان کے گھر کے قریب ایک چیک پوسٹ قائم کرنا اور مانیٹرنگ کے لیے ایک کنٹرول ٹاور لگانا تھا جب کہ شیخ علی تابندہ اور ان کے مریدین ان کے مرکز کےقریب کسی قسم کی فوجی اور پولیس سرگرمی کے خلاف ہیں۔

گزشتہ اتوار کے روز علی تابندہ کے سیکڑوں مریدوں نے ان کے گھر پر جمع ہو کر چیک پوسٹ قائم کرنے کے خلاف پرامن احتجاج کیا۔ ایرانی پولیس اور فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا اور پرامن شہریوں اور صوفی بزرگ کو اسلحہ کے زور پر ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی۔

ایرانی پولیس اور فوج کی بدسلوکی کے بعد سوشل میڈیا پر بھی علی تابندہ کی حمایت میں ایک بڑی مہم شروع ہوگئی۔ اس کےعلاوہ ان کے چاہنے والوں نے دارالحکومت میں پاسداران کے مقام پر بڑی تعداد میں جمع ہو کر پولیس گردی کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا۔

خیال رہے کہ ایران میں ذرائع ابلاغ میں شائع ہونےوالی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں روایتی شیعہ مسلک کے برعکس صوفی شیعہ کے دائرے میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ مگران کا یہ اضافہ اور مقبولیت ایرانی سرکاری کے لیے قابل برداشت نہیں۔ یہ وجہ ہے کہ حکومت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کے صوفی شیعہ سلسلے کے افراد کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔

ایران میں ’جنابادیہ‘ سلسلہ اہل تشیع کے ہاں سب سے زیادہ مقبول صوفی مسلک ہے۔ یہ سلسلہ طریقہ معروف شیعہ صوفی بزرگ سید نورالدین شاہ نعمت اللہ ولی الماھانی اور الکرمانی المعروف شاہ نعمت اللہ ولی سے جا کر ملتا ہے۔ شاہ نعمت اللہ ولی آٹھویں صدی ھجری کے آخری اور نویں صدی ھجری کے اوائل کے مشہور بزرگ تھے۔ انہوں نے اپنی فارسی شاعری میں جہاں معاشرتی اصلاح کی وہیں آنے والے حالات کی کچھ ایسی پیشن گوئیاں بھی کر رکھی جو کافی حد تک سچی ثابت ہوئی ہیں۔