.

پیرس حملوں کے مشتبہ ملزم صلاح عبدالسلام کا عدالت میں دوبارہ پیش ہونے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیرس حملوں کے مبینہ رنگ لیڈر اور دہشت گردی کے دوسرے واقعات میں ملوّث ہونے کے الزام میں گرفتار صلاح عبدالسلام نے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ایک عدالت میں دوبارہ پیش ہونے سے انکار کردیا ہے۔

اس نے سوموار کے روز عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران میں کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا تھا۔گرفتاری کے قریباً دو سال کے بعد اس کی کسی عدالت میں یہ پہلی پیشی تھی لیکن برسلز کی عدالت نے منگل کے روز کہا ہے کہ صلاح عبدالسلام جمعرات کو آیندہ سماعت کے موقع پر پیش نہیں ہونا چاہتا ہے۔

اس کے خلاف اس کے آبائی شہر برسلز میں پولیس کے ساتھ مقابلے اور پولیس اہلکاروں کے قتل کی کوشش کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اس نے 15 مارچ 2016ء کو خودکار ہتھیار سے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی اور فرار ہوگیا تھا۔اس واقعے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے اور اس کا ایک ساتھی جنگجو مارا گیا تھا۔ اس کو 18 مارچ 2016ء کو برسلز کے علاقے مولن بیک سے گرفتار کر لیا گیا تھا ۔اسی علاقے میں داعش کے دوسرے جنگجو بھی رہتے رہے تھے۔

وہ پیرس حملوں میں زندہ بچ جانے والا واحد ملزم ہے۔یادرہے کہ پیرس میں نومبر 2015ء میں فائرنگ اور بم دھماکوں میں ایک سو تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں نو حملہ آور بھی شامل تھے۔

صلاح عبدالسلام کو جب گرفتار کیا گیا تو اس وقت یورپ میں سب سے زیادہ مطلوب بھگوڑا تھا۔اس کی گرفتاری کے صرف چار روز کے بعد داعش کے نیٹ ورک سے وابستہ جنگجوؤں نے برسلز میں دو مقامات پرحملے کیے تھے۔ان میں بتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔