.

باب المندب اور نہر سویزمیں عالمی جہاز رانی کو ایرانی خطرات!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کے ذریعے یمن کی بندرگاہوں سے گذرنے والی عالمی آبی ٹریفک کو ایک منظم منصوبے کے تحت خطرات سےدوچارکیا جا رہا ہے۔

یمن کی خلیج عدن، باب المندب اور دیگر تمام بندرگاہوں کو استعمال کرنے والے امریکا اور سعودی عرب کےبحری جہازون کو مسلسل ناکام حملوں کا سامنا ہے۔ حال ہی میں ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب جنر حسن سلامی نے کہا کہ ان کے ملک کے پاس ایسے جدید اور منفرد نوعیت کے بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو بحری اہداف کو بآسانی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

جنرل حسن سلامی کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب یمن کی سرکاری فوج اور سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحادی فوج نے تزویراتی اہمیت کے حامل حیس ڈاریکٹوریٹ کو باغیوں سے چھڑانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حیس ڈاریکٹوریٹ کے باغیوں سے چھڑائے جانے کےبعد الحدیدہ اور ملک کے مغربی علاقوں میں باغیوں کا صفایا کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کےعلاوہ بحر احمر میں آبی ٹریفک کو تحفظ اور حوثی باٰغیوں کی سپلائی بند کی جاسکےگی۔

ایران کی جانب سے آبی ٹریفک کو نشانہ بنائے جانے کی بزدلانہ دھمکیوں کا کسی نا کسی حوالے سے حوثیوں سے میدان جنگ میں شکست سےبھی تعلق ہے۔ ایران حوثی باغیوں کو خطے میں اپنے اثرونفوذ کو بڑھانے اور وسعت دینے کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ایران کی جانب سے عرب خطے میں عالمی جہاز رانی کوخطرے میں ڈالنے کی اشتعال انگیز دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ایران ماضی میں بھی اپنے وفاداروں کو کسی بڑے نقصان سے بچانے کےلیے جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی کارروائیوں کا مرتکب رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے کے روز عالمی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کے دھمکی آمیز میں جنرل سلامی نے کہا کہ ایران اپنے اثرونفوذ کو بڑھانے کے لیے جنگ کا دائرہ اپنی سرحدوں سےباہر منتقل کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس امریکا کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ایران کے اطراف میں امریکیوں کی کتنی فضائی اور بحری فورس موجود ہے۔ اپنےدشمنوں کے خلاف ایران اطراف میں فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

باب المندب پر قبضے کی کوشش

امریکی بحریہ کے ایک سابق عہدیدار جیمز لیونز نے حال ہی میں امریکی اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے اپنے مضموں میں لکھا کہ ایران ہرصورت میں یمن کی باب المندب بندرگاہ پر اپنا کنٹرل قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ بندرگاہ بحر احمر ، خلیج عدن اور بحر عرب کو ملاتی ہے۔ اسی طرح ایران کی جانب سے مصر کی نہر سویز پر کنٹرول کی کوششیں بھی جاری ہ یں۔ یہ دونوں عالمی بندرگاہیں بین الاقوامی جہاز رانی کے 10 فی صد کو کنٹرول کرتی ہیں۔ ان دونوں بندرگاہوں سے یومیہ کی بنیاد پرعالمی بحری جہاز گذرتے ہیں۔ ایران کی کوشش ہے کہ وہ باب المندب بندرگاہ، نہر سویز اور آبنائے ہرمز پر قبضہ کرکے عرب ممالک کے تیل بردار تمام جہازوں کو کنٹرول کرسکتا ہے۔

امریکی بحریہ کے سابق افسرکا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب بحر احمر کے کنارے واقع یمن کی دو اہم بندرگاہوں باب المندب ، المخا اور الحدیدہ کو کنٹرول کرنے کے لیے جدید راڈار فراہم کررہا ہے،اس کے علاوہ ایران کی طرف سے حوثیوں کو جدید میزائل مہیا کیے رہے ہیں۔ ان میں چینی ساختہ ’سی 820‘ نامی بحری جہاز شکن میزائل بھی مہیا کیے جا رہے ہیں۔

سعودی عرب پر حملے

ایرانی پروردہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے نہ صرف عالمی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی سازشیں جاری ہیں بلکہ ایران کی شہ پر حوثی ملیشیا سعودی عرب کے اندر گھس کر دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔

ایرانی عہدیداروں اور سرکردہ لیڈروں کے اشتعال انگیز بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب پرحملوں کے پس پردہ ایران کا ہاتھ ہے۔ حال ہی میں ایرانی سرکردہ مذہبی لیڈر اور شدت پسند شیعہ نے کہا کہ مہدی طائب نے کہا کہ ایران کی جانب سے حوثی باغیوں کی مدد داصل جدہ اور الریاض پرقبضے کی کوشش ہے۔

مہدی طائب کا یہ بیان ایرانی شدت پسندوں کی مقرب ویب سائیٹ ’75‘ پر شائع کیا گیا۔ اس میں ان کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب نے متعدد مراحل میں حوثیوں کو اسلحہ اور دیگر جنگی ہتھیار فراہم کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم عرب خطے میں ایرانی بحریہ کے کنٹرول کےلیے حوثیوں کی مدد کررہا ہے۔

شدت پسند ایرانی رہ نما نے صدر حسن روحانی پر الزام عاید کیا کہ وہ حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ہمیں یہ سن کر حیرت ہوئی صدر روحانی نے جوہری تنازع پرمذاکرات کے بدلے میں حوثی باغیوں کو اسلحہ کی ترسیل روکنے کا حکم دیا ہے۔

بیلسٹک میزائلوں کی فراہمی

اقوام متحدہ میں امریکا کی مستقل مندوب نیکی ہیلے نے گذشتہ دسمبر میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا ایک نمونہ پیش کیا اور کہا کہ ایران سعودی عرب کے شہر الریاض کو نشانہ بنانے کے لیے حوثیوں کو بیلسٹک میزائل فراہم مہیا کررہا ہے۔ نیکی ہیلے نے ایران کی طرف سے حوثیوں کو بیلسٹک میزائلوں کی فراہمی کو اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

ایرانی صدر حسن روحانی بھی یمن کے حوثیوں کی معاونت کا اعتراف کرچکے ہیں۔ 10 دسمبر کو انہوں نے ایک تقریر میں کہا کہ ان کا ملک عراق، شام اور لبنان سمیت دیگر ملکوں میں سرگرم مزاحمتی محور کی تنظیموں کی مدد جاری رکھے گا، ان کا اشارہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب بھی تھا جو ایران کی مالی، مادی، معنوی اور عسکری مدد سے آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کے اب سعودی عرب کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن چکے ہیں۔