.

بحر روم میں اپنی خود مختاری کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے: مصر کا ترکی کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی جانب سے ترکی کے اس بیان کا جواب سامنے آیا ہے جس میں انقرہ نے بحر روم کے مشرق میں اکنامک زون میں گیس اور پٹرول کی تلاش کا اعلان کیا تھا۔ مصر کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ اس کی ساحلی حدود میں واقع ہے۔

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان احمد ابو زید کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک 2013 میں مصر اور قبرص کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد مذکورہ دونوں ممالک کے بیچ سمندری حدود کی خاکا بندی ہے تا کہ بحر روم کے مشرق میں اکنامک زون میں دونوں ممالک قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں۔ مصر اور قبرص میں سے کوئی ملک بھی سمندری حدود کے اس معاہدے کی قانونی حیثیت کو چیلنج نہیں کر سکتا اس لیے کہ اس معاہدے کو بین الاقوامی قانون کے اصول و ضوابط کی روشنی میں اقوام متحدہ میں ایک بین الاقوامی سمجھوتے کے طور پر حتمی شکل دی گئی۔

ابو زید نے مذکورہ علاقے میں مصر کی خود مختاری کے حقوق کو نقصان پہنچانے یا حقوق کی اہانت کی کسی بھی کوشش سے خبردار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی کوشش یکسر مسترد ہو گی اور اس کا راستہ روکا جائے گا۔

ترکی کے وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں اعلان کیا تھا کہ اُن کا ملک مستقبل قریب میں بحیرہ روم کے مشرق میں پٹرول اور گیس کی دریافت کے لیے کارروائی شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یونانی اخبار Cathemerini سے گفتگو کرتے ہوئے مولود چاوش اوگلو کا کہنا تھا کہ ان وسائل کی دریافت اور ان کے حوالے سے مطالعاتی تحقیق تیار کرنا ترکی کا حق ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ مصر اور قبرص کے درمیان سمندری حدود کی خاکہ بندی کا معاہدہ کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔