.

خامنہ ای کو ’فرعون‘ کہنے پر ایرانی عالم دین گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے قم شہر سے ایک سرکردہ شیعہ عالم دین کو حراست میں لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کے سخت ناقد ہیں اور اپنے ایک خطاب میں انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی کو ’فرعون‘ کہہ دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی پولیس نے قم شہر میں سوموار کو ایک کارروائی کے دوران سرکردہ شیعہ رہ نما صادق شیرازی کے بیٹے حسین شیرازی کو گرفتار کرکے ان سے پوچھ تاچھ شروع کی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک لیکچر کے دوران سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ’فرعون‘ کہا تھا۔

مقامی ویب سائیٹ ’مائیکروفون نیوز‘ کے مطابق قم شہر میں مذہبی عدالت کے پراسیکیوٹر جنرل کے حکم پر حسین شیرازی کو اس وقت گرفتار کرنے کا حکم دیا جب انہوں نے ایرانی رجیم پر کڑی تنقید کی۔ پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ ایک شیعہ رہ نما کو ولایت فقیہ کے بنیادی اصولوں، ریاستی اقدار اور اعلیٰ شخصیات کی توہین نہیں کرنی چاہیے۔ پولیس نے علامہ حسین شیرازی کو اس لیے حراست میں لیا کہ انہوں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو ’فرعون وقت‘ قرار دیا تھا۔

ویب سائیٹ نے علامہ حسین شیرازی کے لیکچر کا وہ حصہ نشر کیا ہے جس میں انہوں نے سپریم لیڈر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اپنے اس بیان میں انہوں نے ایران میں مذہبی بنیاد پر عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کو فرعونی طرز عمل قرار دیا۔ انہوں نے حالیہ عرصے کے دوران ملک میں ہونے والے مظاہروں کی تائید کی اور ریاستی تشدد کےخلاف سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے انقلاب کے بعد شیرازی خاندان کو کافی اثرو رسوخ حاصل ہوا ہے۔ اس خاندان کی کئی سرکردہ شخصیات ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہی ہیں۔