.

یمنی فوج نے حوثیوں کے گڑھ میں تزویراتی پہاڑی علاقہ واپس لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صوبے صعدہ کے شمالی علاقے مندبہ میں سرکاری فوج کی پیش قدمی جاری ہے۔ یمنی فوج مذکورہ علاقے میں بڑے پیمانے پر پہاڑی علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

سرحدی محافظین کے ففتھ بریگیڈ کے کمانڈر میجر جنرل صالح قروش کے مطابق ان کی فورسز نے مندبہ میں کئی پہاڑیوں اور ٹیلوں کو آزاد کرا لیا ہے۔ اس دوران باغی ملیشیا کے کم از کم 30 ارکان مارے گئے اور دو کو قیدی بنا لیا گیا جب کہ بقیہ فرار ہو گئے۔

قروش کا کہنا ہے کہ یمنی فوج نے باغی ملیشیا کے قبضے میں موجود بھاری اور درمیانے ہتھیاروں کی ایک بڑی تعداد واپس لے لی۔ اس کے علاوہ عرب اتحادی افواج نے کئی عسکری گاڑیوں اور باغیوں کے لیے ضحیان سے آنے والی کمک کو بھی تباہ کر دیا۔

ادھر ایک یمنی فوجی عہدے دار نے منگل کے روز بتایا کہ عرب اتحاد کی معاونت سے یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کی پیش قدمی کے ساتھ ہی حوثی ملیشیا صعدہ صوبے کے اندر اپنے مرکزی گڑھ میں خطرے سے دوچار ہے۔

یمنی مسلح افواج کے اعلی کمانڈر کے مشیر لیفٹننٹ جنرل محمد المقدشی نے بتایا کہ سرکاری فوج صنعاء کے اطراف پہنچ گئی ہے، وہ البیضاء صوبے میں پیش قدمی کر رہی ہے جہاں کے کئی علاقے اور ضلعے آئینی حکومت کے ہاتھ آ گئے ہیں۔

المقدشی نے مارب میں اسپیشل فورسز کے بریگیڈز کا دورہ کرتے ہوئے مغربی ساحل اور مختلف محاذوں پر عرب اتحاد کی فورسز کے مدد سے حاصل کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صعدہ صوبہ جلد آزاد کرا لیا جائے گا۔ المقدشی کے مطابق اس صوبے کو آزاد کرائے جانے کا مطلب یمن کو آزاد کرا لیا جانا ہے۔