.

لیبیا میں انسانی اسمگلروں کے سکیورٹی اداروں سے روابط ہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ لیبیا میں انسانی اسمگلنگ کے دھندے میں ملوث بیشتر مسلح گروپوں کے ملک کے سرکاری سکیورٹی اداروں سے روابط اور تعلقات ہیں۔

انھوں نے اس بات کا انکشاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی کو پیش کردہ خفیہ رپورٹ میں کیا ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ انسانی اسمگلر لیبیا میں کسی قانونی کارروائی کے خوف سے بے نیاز ہوکر کام کررہے ہیں۔انھوں نے 2014ء کے بعد ہزاروں غیر قانونی تارکین ِوطن کو سمندر کے راستے اٹلی اور دوسرے یورپی ممالک میں بھیجا ہے۔اس پُرخطر سفر کے دوران میں ہزاروں افراد کشتیاں الٹ جانے یا دوسرے حادثات کا شکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’ مسلح گروپ لیبیا کے وسیع تر سیاسی فوجی اتحاد کا حصہ ہیں اور وہ اسمگلنگ اور بالخصوص انسانی اسمگلنگ کی غیر قانونی سرگرمیوں میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔ان میں سے بیشتر مسلح گروپ سرکاری سکیورٹی اداروں سے وابستہ ہیں‘‘۔

ان ماہرین نے سلامتی کونسل کو لیبیا پر 2011ء سے عاید اسلحے کی پابندی کی پاسداری سے متعلق رپورٹ پیش کی ہے۔لیبیا پر یہ پابندی سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کارروائیوں کے بعد عاید کی گئی تھی لیکن مسلح گروپ اس کی سرعام خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔

اری ٹیریا سے تعلق رکھنے والے تارکین وطنِ نے پابندیوں کو مانیٹر کرنے والے ماہرین کو بتایا ہے کہ انھیں لیبیا کی خصوصی ڈیٹرینس فورس (ایس ڈی ایف) نے گرفتار کر لیا تھا ۔یہ فورس لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی وزارت داخلہ کے تحت ہے۔ان تارکین وطن کو اس فورس نے انسانی اسمگلروں کے مختلف گروہوں کے حوالے کردیا تھا۔

لیبیا پر اسلحے کی پابندی کی نگرانی کرنے والے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’پینل اس بات کا بھی جائزہ لے رہا ہے کہ آیا ایس ڈی ایف کی قیادت اپنی صفوں میں ہونے والے انسانی اسمگلنگ کے دھندے سے آگاہ بھی ہے یا نہیں ‘‘۔

اس پینل نے مسلح گروپوں کی جانب سے ریاستی وسائل اور اداروں کو انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کے روٹس پر کنٹرول کے لیے استعمال کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب ایس ڈی ایف نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔اس کے ترجمان احمد بن سالم نے رائیٹرز کو بھیجے گئے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ ’’ان کی فورس کا اسمگلنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف جنگ لڑرہی ہے اور اس نے بہت سے انسانی اسمگلروں کو گرفتار کیا ہے‘‘۔

لیکن بین الاقوامی ایجنسیوں نے پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کو بتایا ہے کہ لیبیا کی غیر قانونی تارکین وطن سے نمٹنے کے لیے قائم نظامت کا اپنے چوبیس حراستی مراکز پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔تارکین وطن نے بھی اقوام متحدہ کے مانیٹروں کو بتایا ہے کہ انھیں جن حراستی مراکز میں رکھا گیا تھا،ان پر مسلح گروپوں کا کنٹرول تھا۔

اطالوی وزارتِ داخلہ کے مطابق یکم جنوری سے اب تک لیبیا سے صرف سا ڑھے تین ہزار تارکین وطن اٹلی میں داخل ہوئے ہیں۔یہ تعداد گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں قریباً 60 فی صد کم ہے۔