.

یمنی حوثیوں نے تعز میں انسانی حقوق کی کارکن ریہام البدر کو قتل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا نے انسانی حقوق کی معروف کارکن ریہام بدر محمد عبدالواسع ( المعروف ریہام البدر) کو تعز میں ایک امدادی مشن کے دوران فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔

یمنی حکام کے مطابق ریہام البدر تعز کے مشرق میں اپنی ٹیم کے بعض دوسرے ارکان کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھیں۔اس دوران میں ان پر حوثی ملیشیا کے ایک ماہر نشانچی نے فائرنگ کردی جس سے وہ اور ان کی ٹیم کا ایک اور رکن مومن سعید حمود سالم جاں بحق ہوگئے۔فائرنگ سے ان کی ٹیم کا ایک اور رکن احمد محمد الصامت شدید زخمی ہوگیا ہے۔

وہ تعز میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہونے کےعلاوہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی ریکارڈ اکٹھا کررہی تھی۔انھیں حوثی ملیشیا نے تعز کے مشرق میں واقع علاقے صلہ میں حملے میں نشانہ بنایا ہے۔

یاد رہے کہ مقتولہ ریہام البدر کے بھائی اور انسانی حقوق کے کارکن احمد بدر 22 مارچ 2017ء کو تعز ہی میں ملٹری اسپتال کے سامنے حوثیوں کے حملے میں مارے گئے تھے۔

یمن کے وزیراعظم احمد عبید بن دغر نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ریہام بدر کے اندوہناک قتل پر متاثرہ خاندا ن سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے والی قومی کمیٹی کی ایک مانیٹرنگ ٹیم کی رکن تھیں ،انھیں حوثیوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مشاہدے کے دوران میں گولی مار کر شہید کردیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں‘‘۔