.

شام میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بھڑکنے سے متعلق انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر شام میں متعلقہ فریقوں نے روس کی سرپرستی میں طے پائے گئے مفاہمتی امور کی ریڈ لائن سے تجاوز کیا تو ایک وسیع علاقائی جنگ بھڑکنے کا خطرہ ہے۔

برسلز میں "انٹرنیشنل کرائسز گروپ" کی جانب سے جمعرات کے روز جاری رپورٹ میں مبصرین کا کہنا ہے کہ روس اس بات پر قادر ہے کہ شامی حکومت ، ایران اور حزب اللہ پر مشتمل تکون کے اسرائیل کے ساتھ مفاہمتی سمجھوتے کو یقینی بنا لے جو علاقائی جنگ سے بچنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

اسرائیل کے حوالے سے ریڈ لائن یہ ہے کہ شیعہ ملیشیاؤں کے جنگجو مقبوضہ گولان کے پہاڑی علاقے میں فائر بندی کی لائن کے قریب نہ جائیں اور دوسری جانب روس ایران کو اس بات پر قائل کر لے کہ وہ شام میں فوجی اڈّے بنانے کا خطرہ مول نہ لے۔

ایران کے رسوخ پر روک لگانے کے لیے روسی آمادگی

مبصرین کے نزدیک شام کی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں روس اور ایران جیسے حلیفوں کی کرم نوازیوں کے سبب بشار الاسد کی حکومت کا "ہاتھ اوپر" ہے۔ البتہ اسرائیل کے لیے یہ صورت حال آرام دہ نہیں جو خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے پر شاید راضی نہ ہو۔ اسرائیل یہ دیکھ رہا ہے کہ "روس کی موافقت سے" شامی حکومت کا ایران ، حزب اللہ اور شام میں سرگرم دیگر شیعہ ملیشیاؤں پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دل چسپ مواقف شام کے میدان میں ابھی تک مثمر ثابت نہیں ہوئے۔ تاہم یہ سوچ درست نہ ہو گی کہ اسرائیل کے ہاتھ "چھوٹے" ہیں۔ شام میں ایران کے عسکری مفادات پر روک لگانے کے لیے اسرائیل کو روس کی موافقت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ روس طاقت کا توازن بھی چاہتا ہے۔

رپورٹ میں روس کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ "متحارب قوتوں" کے درمیان مفاہمت پیدا کرے۔ اگر روس اس مفاہمت کو یقینی بنانے میں ناکام رہا تو شام میں اسرائیل اور ایران کے درمیان تصادم روس کی جانب سے حاصل کیے گئے نتائج یعنی نظام کے استحکام کے برقرار رکھنے کو کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔

اسرائیل کی ریڈ لائن

شام کا جنوب مغربی علاقہ اسرائیل کے لیے تشویش کا ذریعہ ہے۔ اسرائیل کو اندیشہ ہے کہ حزب اللہ کی ملیشیا کے 1974 کی فائر بندی کی لائن کے قریب آنے کا اندیشہ ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کی سرحد کے نزدیک اڈے قائم کرنے اور فریقین کے بیچ جغرافیائی مقابلے کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا بھی امکان ہے۔

حالیہ مرحلے میں اردن ، روس اور امریکا کی سرپرستی میں سامنے آنے والا سیف زون حزب اللہ کی فورسز اور دیگر ملیشیاؤں کو فائربندی کی لائن سے دور رکھے ہوئے ہے۔ تاہم ایسے آثار مل رہے ہیں کہ یہ مفاہمت باقی نہیں رہے گی۔ شامی حکومت کی فوج نے جنوری 2018 میں شدت پسندوں کے زیر قبضہ ریتیلے رقبے کو واپس لے لیا۔ اس طرح اس نے اپنے حلیفوں کے لیے مقبوضہ گولان کی پہاڑویوں سے قریب آنا آسان بنا دیا۔

اسرائیل یہ چاہتا ہے کہ اُس کے مخاصم فریق شام میں اپنے مستقل عسکری وجود کو مضبوط بنانے میں کامیاب نہ ہوں ۔ اسے اندیشہ ہے کہ یہ صورت حال ایک جانب مذکورہ مخاصمین کی حربی قدرت کو بڑھا دے گی اور دوسری جانب لبنان ، اردن اور فلسطینی اراضی میں ان کے رسوخ کو بھی وسیع کر دے گی۔

اسرائیل کی جانب سے کھینچی گئی ریڈ لائن یہ ہے کہ شام میں ایران کو ایسے کسی بھی ہوائی اڈے ، سمندری بندرگاہ یا فوجی اڈے کی فراہمی روکی جائے جہاں حزب اللہ ملیشیا ہتھیار تیار کرے۔ اسرائیل یہ ثابت کر چکا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی تنصیب کو تباہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

اسرائیل کو اپنے برتاؤ کے سبب شام میں غیر ملکی فورسز کے داخل ہونے کے نتائج کا سامنا ہے جب کہ یہ فورسز شامی حکومت کی فوج کی وردیوں میں ملبوس ہوں۔

اسرائیلی ذمّے داران کو یہ اندیشہ بھی ہے کہ ایران ایک ایسی گزرگاہ قائم کر لے گا جس کے راستے اس کی ہمنوا فورسز اور ساز و سامان کو عراق سے شام اور لبنان منتقل کیا جا سکے۔ یہ پیش رفت مشرقی شام میں اسرائیل کے لیے ایک بڑی مشکل ہے کیوں کہ وہ گولان کے پہاڑی علاقے سے جتنا دور ہو گا اس کی انٹیلیجنس اور عسکری صلاحیت اتنی ہی غیر مطلق ہوتی چلی جائے گی۔

ماسکو مفاہمتوں کا سرپرست

ماسکو سیف زونز سے متعلق مفاہمتوں کو طے کرانے میں منفرد قدرت رکھتا ہے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو شام میں کھیل کے اصول بدل جائیں گے اور پھر جارحیت میں اضافہ جاری رہنے کے نتائج سامنے آئیں گے۔ گزشتہ دو برس میں ایران نواز ملیشیاؤں کی جانب سے جنگ بندی کی لائن کے زون میں حملوں میں کمی آئی ہے۔ تاہم مقابل علاقوں میں شامی حکومت کی واپسی جارحیت کے خطرے کی گھنٹی بجا سکتی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے شام میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ اس کا مقصد حزب اللہ کو جدید ہتھیاروں کے حصول سے محروم کرنا اور ہتھیاروں کی لبنان منتقلی کو روکنا ہے۔ اسرائیلی فوج کے جنرل وسیع پیمانے پر کسی بھی تصادم کے بغیر اس منظر نامے کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ خبردار کر چکی ہے کہ بم باری کی کارروائیوں کے نتائج شمار سے باہر ہو سکتے ہیں۔

ایران پر دباؤ

امریکا اور علاقائی فریقوں کی جانب سے اپنائی گئی "دور اندیشی کی حکمت عملی" ایران پر عسکری ، اقتصادی اور سفارتی میدان میں دباؤ ڈال رہی ہے۔

یہ قوتیں ایران کو باز رکھنے اور صدر اوباما کے دور میں وسیع ہو جانے والے رسوخ پر روک لگانے کا مصمم ارادہ کر چکی ہیں۔

ایران اور حزب اللہ جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم اسرائیل اور حزب اللہ دونوں میں سے کوئی بھی یہ بات قبول نہیں کرے گا کہ وہ اپنے حلیف کے ہاتھوں یرغمال بنے۔ لہذا دونوں ہی اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی بھی بڑے مقابلے سے گریز کیا جائے۔

شام کے جنوب مغرب میں روس وہ واحد فریق نظر آتا ہے جو ایسی مفاہمت کے لیے وساطت کار ہونے کی قدرت رکھتا ہے جو شام میں ایران اور اسرائیل کے بیچ تصادم کی راہ میں حائل ہو جائے۔ موجودہ مرحلے میں واحد راستہ یہ ہے کہ ایک ایسا معاہدہ عمل میں لایا جائے جو ایران اور اس کے شراکت داروں کو شام میں نمایاں رسوخ برقرار رکھنے کے مقابل بڑی عسکری تعمیرات روک دینے پر مجبور کر دے۔

سال 2011 سے پہلی والی صورت حال کی جانب واپسی کا تصوّر دشوار ہے جب شامی ریاست ایران کی اتحادی تھی تاہم اس اتحاد نے شام کی اراضی کو ایران کے عسکری وجود اور کارروائیوں کے لیے کھلا نہیں چھوڑا تھا۔

مستقبل میں ایسا نظر آ رہا ہے کہ ایران شامی حکومت کی سکیورٹی کا ستون رہے گا۔ تاہم اگر ایران نے حدود سے تجاوز کیا تو وہ شام میں اپنی "سرمایہ کاری" کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

شام میں جنگ کے بادل گھنے ہونے سے شامی عوام سمیت تمام ہی فریق خسارے میں رہیں گے۔ شام میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ ملیشیا کے درمیان ٹکراؤ کا شعلہ بھڑکا تو اسرائیل اور لبنان کا محاذ بھی گرم ہو جائے گا۔ اسرائیل نے شدید بم باری کا راستہ اپنایا تو شامی حکومت اور اس کے حلیف خود کو حاصل اب تک کی تمام منفعتیں کھو دیں گے۔

لہذا شام کے امن و استحکام کو بتدریج واپس لانے پر کام کرنا ایک دانش مندانہ موقف ہو سکتا ہے۔ اس کا راستہ ایک سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔