.

لیبیا میں نماز جمعہ کے دوران مسجد میں دو بم دھماکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں نو فروری کے روز جمعے کی نماز کے دوران نمازیوں سے بھری ایک مقامی مسجد میں دو بم دھماکے کیے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں کم از کم ایک شخص جاں بحق اور چالیس کے قریب زخمی ہو گئے۔

بن غازی سے موصولہ اطلاعات میں سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ دوہرا بم حملہ بن غازی شہر کے مرکزی علاقے الماجوری میں نمازیوں سے بھری ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران کیا گیا، جس میں فوری طور پر ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد کم از کم بھی 37 ہے۔ یہ بم دھماکے ایک موبائل فون کو ریموٹ کنٹرول کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کیے گئے۔

طبی ذرائع کے مطابق ان درجنوں زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے اور اسی لیے خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔ لیبیا کے اسی شہر میں ابھی صرف دو ہفتے قبل بھی دو ایسے بڑے کار بم دھماکے ہوئے تھے، جن میں کم از کم 35 افراد مارے گئے تھے اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ جنوری کے آخری عشرے میں یہ دھماکے بھی بن غازی کے وسطی علاقے میں ایک مسجد کے عین سامنے کیے گئے تھے۔

بن غازی شہر کی لیبیا میں سیاسی اور سماجی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 2011ء میں عشروں تک اقتدار میں رہنے والے رہنما معمر قذافی کے خلاف عوامی مظاہروں کا آغاز اسی شہر سے ہوا تھا۔ پھر یہ مظاہرے پھیل کر خانہ جنگی کی شکل اختیا رکر گئے تھے اور بن غازی کی طرح پورا لیبیا بھی شدید انتشار کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔

قذافی کے دور اقتدار کے بعد کچھ عرصے تک اس شمالی افریقی ملک کا زیادہ تر حصہ مختلف شدت پسند، اسلام پسند مسلح گروپوں کے اتحاد کے کنٹرول میں بھی رہا تھا۔ گزشتہ برس بن غازی شہر کا انتظام مشرقی لیبیا کے وسیع تر علاقوں پر کنٹرول کے حامل فوجی رہنما خلیفہ حفتر کے دستوں نے سنبھال لیا تھا۔

بن غازی لیبیا کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے، جس پر فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیائی نیشنل آرمی یا ایل این اے کو کنٹرول تو حاصل ہے لیکن وہاں ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش اور القاعدہ سے منسلک کئی فعال شدت پسند مسلم گروہ ابھی تک موجود ہیں، جن کے خلاف نیشنل آرمی کے دستے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق بن غازی میں یہ بم حملے زیادہ تر انہی شدت پسند گروہوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔

خلیفہ حفتر کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ وہ ان قومی انتخابات کے نتیجے میں اعلیٰ ترین ریاستی یا حکومتی عہدے کے لیے امیدوار ہو سکتے ہیں، جو ممکنہ طور پر اسی سال کے اواخر تک کرائے جائیں گے۔