.

القدس کے معاملے پر روسی حمایت حاصل کرنے کے لیے فلسطینی صدر کا دورہ ماسکو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے روس کے دورے کے دو ہفتوں بعد فلسطینی صدر محمود عباس پیر کو روسی دارالحکومت ماسکو پہنچ رہے ہیں۔ عباس کے دورے کا مقصد روسی صدر ولادیمر پوتین کی سپورٹ حاصل کرنا ہے تا کہ واشنگٹن کا مقابلہ کیا جا سکے جس نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ہے۔

کریملن محل کے مطابق یہ ملاقات جو سوچی میں ہونا تھی، اب اسے ماسکو منتقل کر دیا گیا ہے۔

محمود عباس امریکا کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی رابطے کو مسترد کر رہے ہیں۔ فلسطینی صدر 20 فروری کو عالمی سلامتی کونسل میں خطاب بھی کریں گے۔

ٹرمپ نے 6 دسمبر کو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ٹرمپ کے اس اعلان پر عرب اور اسلامی دنیا کے علاوہ عالمی برادری کی جانب سے بھی بھرپور مذمت سامنے آئی۔

ٹرمپ کے اعلانِ قُدس کے بعد فلسطینی امریکی تعلقات میں شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ فلسطینیوں کے نزدیک آج کے بعد اس بات کا کوئی امکان نہیں رہا کہ امریکا مشرق وسطی میں امن عمل میں ثالثی کا کردار ادا کرے۔