.

سعودی عرب :غیرملکی تعلیمی اداروں میں مقامی طلبہ کی تعداد میں 30 فی صد اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی طلبہ میں بین الاقوامی تعلیمی اداروں میں داخلے کے رجحان میں حال ہی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔دارالحکومت الریاض سے تعلق رکھنے والی ایک ماہر تعلیم سحر بنت حمد المرزوقی کے مطابق غیرملکی تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں طلبہ کی تعداد میں 30 فی صد تک اضافہ ہوا ہے۔

سحر المرزوقی الفارس انٹر نیشنل اسکول گروپ کی مالکن اور ڈائریکٹر جنرل ہیں۔انھوں نے بتایا ہے کہ اب والدین بھی اپنے بچوں کی تعلیم میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔وہ انھیں امریکی ، برطانوی اور فرانسیسی نظام ہائے تعلیم کے تحت اعلیٰ تعلیم دلانے کے خواہاں ہیں تاکہ وہ اندرون اور بیرون ملک بہتر ملازمتیں حاصل کرسکیں اور جدید دور کے تقاضوں پر پورا اتر سکیں۔

المرزوقی نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ بین الاقوامی اسکولوں میں 2018ء کے اختتام تک سعودی طلبہ کی تعداد میں 60 فی صد تک اضافہ ہوجائے گا اور مملکت میں نئے غیرملکی اسکول قائم ہوں گے اور ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت تعلیم کی ہدایت پر مذہبی اور عربی زبان کے نصا ب کو بھی پڑھایا جاتا ہے اور اس کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام اسکولوں میں اچھی تعلیم کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس تصو ر کو الفارس اسکول میں مکمل طور پر اختیار کیا گیا ہے ۔چنانچہ اس وقت اس اسکول میں سعودی طلبہ کی تعداد 70 فی صد ہے اور غیرملکی طلبہ کی تعداد 30 فی صد کے لگ بھگ ہے۔