.

امریکا کو ’’انقلابی‘‘ سعودی ولی عہد کی حمایت کرنی چاہیے: امریکی سفارت کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کو ’’انقلابی‘‘ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کی سعودی عرب میں زیر عمل اصلاحات کی حمایت کرنی چاہیے۔

یہ بات امریکا کے ایک سینیر سفارت کار ڈینس راس نے واشنگٹن پوسٹ میں سوموار کو شائع شدہ ایک مضمون میں لکھی ہے۔مضمون نگار امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کے دور حکومت میں محکمہ خارجہ میں پالیسی پلاننگ کے ڈائریکٹر رہے تھے اور صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ میں مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی رابطہ کار رہے تھے۔

انھوں نے سعودی ولی عہد کے اصلاحات کے پروگرام کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’ سعودی عرب میں تبدیلی کے لیے مہم زیادہ قابل اعتبار ہے کیونکہ اس کی اٹھان ملک ہی سے ہوئی تھی اور یہ کسی غیر ملکی دباؤ کا نتیجہ نہیں ہے‘‘۔

وہ لکھتے ہیں :’’ ایم بی ایس ( محمد بن سلمان)،جیسا کہ وہ اس مخفف سے جانے جاتے ہیں ، سعودی عرب کو سیکولر بنانے کی کوشش نہیں کررہے ہیں۔ان کے اپنے الفاظ میں ، وہ سعودی عرب میں حقیقی اسلام کو بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کو عدم رواداری اور سخت گیر عقیدہ پھیلانے والوں سے دور لے جانے کے لیے کوشاں ہیں کیونکہ اسی عقیدے سے غیر مسلموں کے خلاف تشدد کا جواز پیش کیا جاتا رہا ہے‘‘۔

ان کے بہ قول: ’’ سعودی عرب میں اصلاحات کے حوالے سے شکوک کا اظہار بیرون سے کیا جارہا ہے، اندرون سے نہیں ۔میرے دوروں اور وہاں عالمی مرکز برائے انسداد انتہاپسندی (اعتدال) کے ذمے داروں سے ملاقاتوں میں اس تبدیلی کا ا ندازہ ہوا تھا اور خواتین اور نوجوانوں کا کردار بھی نمایاں ہوا ہے‘‘۔

راس لکھتے ہیں کہ شہزادہ محمد کی کامیابی ہی دراصل امریکا کی کامیابی ہے۔ ان کے تین ہفتے کے آیندہ دورہ امریکا ہمارے لیے ایک اچھا موقع ہے کہ ہم انھیں جن شعبوں میں مدد درکار ہے ، وہ فراہم کریں۔ہمیں ان کے ساتھ دیانت دار ہونا چاہیے‘‘۔

راس نے مزید لکھا ہے کہ ’’ ایم بی ایس ایک سعودی انقلابی ہیں ۔ان کی پالیسیوں کی کامیابی صرف سعودی عرب ہی میں محسوس نہیں کی جائے گی اور اسی طرح ان کی ناکامی بھی باہر محسوس کی جائے گی‘‘۔