.

امریکی رقوم پر ترکی چراغ پا ، ایردوآن کا "عثمانی طمانچے"کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ امریکا کا شامی کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو مالی سپورٹ پیش کرنے کا فیصلہ ترکی کے فیصلوں پر اثر انداز ہو گا۔

ایردوآن کا یہ موقف امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے رواں ہفتے ترکی کے دورے سے قبل سامنے آیا ہے۔

ترکی کے صدر نے منگل کے روز پارلیمنٹ میں اپنی حکمراں جماعت کے ارکان کے سامنے بیان میں کہا کہ " ان (امریکیوں) کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ دہشت گردوں کی صف میں کھڑے نہ ہوں جن کو وہ آج سپورٹ کر رہے ہیں۔ میں امریکی عوام سے اپیل کرتا ہوں کیوں کہ یہ رقوم امریکا کے بجٹ سے آتی ہیں یعنی یہ عوام کی جیبوں سے نکل کر آتی ہیں"۔

ایردوآن نے مزید کہا کہ "جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم نے اُن پر ضرب لگائی تو وہ پلٹ کر دشمنانہ وار کریں گے.. یہ بات واضح ہے کہ انہیں اس سے قبل سلطنت عثمانیہ کے طمانچے کا تجربہ نہیں ہوا"۔ ترکی کے صدر کا اشارہ امریکی لیفٹننٹ جنرل پال وینک کے اس بیان کی جانب تھا جو انہوں نے شام کے علاقے منبج کے دورے کے دوران دیا تھا۔

اس سے قبل امریکی وزارت دفاع نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے 2019 کے بجٹ میں "سیریئن ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) کی تربیت اور تیاری اور سرحدی سکیورٹی فورس کی تشکیل کے لیے 55 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی ہے۔

اس رقم میں 30 کروڑ ڈالر سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کی تربیت و تیاری پر اور 25 کروڑ ڈالر سرحدی سکیوری فورس کی تشکیل پر خرچ ہوں گے۔

ادھر امریکی وزارت دفاع کے ایک اعلان کے مطابق ایس ڈی ایف نے اندرونی سکیورٹی فورسز، سرحدی سکیورٹی فورسز اور کریکر ماہرین کی تربیت کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے اور وہ انسداد دہشت گردی فورس کی تشکیل نو کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے۔

پینٹاگون کی ایک رپورٹ کے مطابق شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر چار گُنا ہو چکی ہے اور اس وقت وہاں تقریبا دو ہزار فوجی موجود ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکا نے شام میں 12 زیادہ فوجیوں کو تربیت دی جن میں اکثریت کا تعلق سیریئن ڈیموکریٹک فورسز سے ہے۔