.

سعودی عرب المسجد الکبیر کا کنٹرول بیلجیئم کے حوالے کرنے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے بیلجیئم میں واقع سب سے بڑی جامع مسجد کے کنٹرول سے دستبرداری سے اتفاق کیا ہے اور اس کا انتظام میزبان ملک کے حوالے کردیا جائے گا۔

بیلجیئم نے 1969ء میں سعودی عرب کو المسجد الکبیر کی جگہ 99 سالہ پٹے پر مفت کرائے پر دی تھی اور اس نے برسلز میں 2016ء میں داعش کے حملوں کے بعد اس کا کنٹرول واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ دوسرے یورپی ممالک کی حکومتیں سعودی عرب سے ایسے کسی مطالبے کے بارے میں متردد تھیں کیونکہ اس طرح ان کے سعودی مملکت کے ساتھ تجارتی اور سکیورٹی شعبوں میں تعلقات متاثر ہوسکتے تھے۔

اس ضمن میں گذشتہ ماہ خاموشی سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک سمجھوتا طے پایا تھا اور اس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا لیکن بعض مغربی حکام نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی یہ تعبیر پیش کی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے بیرون ملک ان مساجد اور مذہبی اسکولوں ( دینی مدارس) کی حمایت ختم کردی جائے گی ، جن پر سخت گیر نظریات پھیلانے کا الزام عاید کیا جائے گا۔

سعودی عرب کے مذہبی طور پر اعتدال پسند تشخص اجاگر کرنے کے حوالے سے حالیہ اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک بیلجیئن سفارت کار ڈیرک ایچٹن نے اس کو مواقع کی ایک کھڑکی کھلنا قرار دیا تھا۔مسٹر ڈیرک ہی نے نومبر میں الریاض کا دورہ کرنے والے بیلجیئن حکومت کے ایک وفد کی قیادت کی تھی اور اس مسجد کے معاملے پر بات چیت کی تھی۔

اس مسجد کو بیلجیئم کے حوالے کرنے سے متعلق ابھی تفصیل منظر عام پر نہیں آئی ہے ۔البتہ بیلجیئن وزیر داخلہ جان جمبون کا کہناہے کہ اس کی تفصیل طے کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور اس کا اسی ماہ میں اعلان کردیا جائے گا۔ ان کے بہ قول دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر کوئی سفارتی تناؤ پیدا نہیں ہوا ہے اور گذشتہ ماہ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے بیلجیئم کے دورے کے بعد سے صورت حال کنٹرول میں ہے۔

واضح رہے کہ 1960ء کی دہائی کے آخر میں سعودی عرب کے کنٹرول میں آنے سے قبل المسجد الکبیر کی جگہ خالی پڑی تھی اور یہاں 1880ء میں ایک مشرقی پویلین یعنی نمائش گاہ قائم کی گئی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ کسی استعمال نہیں رہی تھی۔سعودی عرب نے اس جگہ میں جامع المسجد الکبیر قائم کی اور یہ مراکش سے آنے والے تارکینِ وطن کے لیے عارضی اقامت گاہ کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ مراکشی یہاں کوئلے کی کانوں اور فیکٹریوں میں کام کے لیے آتے تھے۔

المسجد الکبیر اس وقت مکہ مکرمہ میں قائم رابطہ عالم اسلامی کے زیر انتظام ہے۔اب بیلجئن حکام نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ اس جامع مسجد کا انتظام مراکش کی انتظامیہ کے قریب سمجھا جانے والا گروپ مسلم ایگزیکٹو آف بیلجیئم سنبھال لے۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس مسجد کا کون انتظام سنبھالے گا۔اس وقت مسجد کی انتظامیہ کو رابطہ عالم اسلامی کی وساطت سے سالانہ پچاس لاکھ یورو (60 لاکھ ڈالرز ) کی رقم مل رہی ہے۔

واضح رہے کہ بیلجیئن کی سکیورٹی ایجنسی او سی اے ڈی /او سی اے ایم نے 2016ء میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اس مسجد سے جن تعلیمات کو فروغ دیا جارہا ہے ،اس کے نتیجے میں مسلم نوجوان زیادہ سخت گیر نظریات کے حامل بن رہے ہیں۔

بیلجیئن پارلیمان نے گذشتہ سال اکتوبر میں ملک میں اسلامی شدت پسندی کے مسئلے پر بحث کے دوران میں سعودی عرب سے طے شدہ لیز ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اسی ماہ تارکینِ وطن کے وزیر تھیو فرینکن نے اس جامع مسجد کے مصری امام کو بے دخل کرنے کی کوشش کی تھی۔مصری امام اس مسجد میں گذشتہ تیرہ سال سے خدمات انجام دیتے چلے آرہے ہیں ۔ مسٹر تھیو فرینکن نے انھیں خطرناک قرار دیا تھا لیکن ایک جج نے ان کے فیصلے کو منسوخ کردیا تھا کیونکہ بیلجیئن کے سکیورٹی ذرائع کا بھی کہنا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا کہ المسجد الکبیر کے امام نے تشدد کی تبلیغ کی تھی یا ان کا دہشت گردی کے حملوں سے کوئی تعلق تھا۔