.

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد عدلیہ پر برس پڑے، آخر کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد اور ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے درمیان جاری محاذ آرائی میں مزید شدت آ گئی ہے۔ محمود احمدی نژاد نے عدلیہ پر کرپشن کے الزامات کے بعد قیدیوں کے قتل عام کا نیا سنگین الزام عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج وائرل ہوئی ہے جس میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کو عدلیہ پر کڑی تنقید کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ عدلیہ پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے اسے "قیدیوں کے قتل میں قصور وار قرار دے رہے ہیں۔"

کل بدھ کو محمود احمدی نژاد نے اپیل کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بھی عدلیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ سابق صدر اپنے معاون حمید بقائی کے خلاف عدالت میں جاری مقدمہ کی سماعت کے موقع پر عدالت پہنچے تھے مگر انہیں مقدمہ کی کارروائی سننے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حمید بقائی کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنے شدید ترین رد عمل کی وجہ سے حکومت اور عدلیہ کم تنقید اور احتجاج کا سامنا کر رہی ہے۔ ملک کی حالت یہ ہے کہ نوجوانوں کے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ رہا ہے۔ غربت کے باعث اپنے ہی گھروالوں کے سامنے شرمندہ ہے۔ احتجاج کرنے والے شہریوں کو زندانوں میں ڈالا جا رہا ہے، قیدیوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے بعد ان کی میتیں ورثاء کو یہ کہہ کر دی جاتی ہیں کہ ان کا بیٹا نشے کا عادی تھا یا اس نے خود کشی کی ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں حالیہ ہفتوں کے دوران مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ایرانی فوج اور پولیس نے وحشیانہ کریک ڈاؤن کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیئے گئے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق گرفتار شہریوں کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ ہے۔