.

کرپشن الزامات کے سبب نیتن یاہو کو 10 مرتبہ تحقیقات کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس کی جانب سے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر رشوت اور بد دیانتی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اُن پر سیاسی طور پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسرائیلی تجزیہ کاروں کے نزدیک نیتنیاہو نے پولیس اور میڈیا کے مُنہ پر ایک طمانچہ رسید کیا ہے جب کہ یہ اُس جمہوریت کے ستونوں میں سے ہیں جس جمہوریت کے گُن اسرائیلی وزیراعظم مغرب کے سامنے گاتے ہیں۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سے معاملات ہیں جن میں نیتنیاہو کے ساتھ تقریبا 10 مرتبہ تحقیقات ہو چکی ہیں؟

Case 1000

یہ معاملہ تحائف سے متعلق ہے جس میں نیتنیاہو اور ان کی اہلیہ سارہ نے "خدمات" کے عوض دنیا بھر کے دولت مند ترین افراد سے نہایت قیمتی تحائف وصول کیے۔

پولیس کے مطابق نیتن یاہو نے ہالی وڈ کے مشہور فلم ساز آرنن ملیشین سے 2 لاکھ 8 ہزار ڈالر سے زیادہ کے تحائف حاصل کیے۔ اس کے مقابل آرنن نے اسرائیل میں ٹیکس کی معافی اور امریکا میں داخلے کے ویزے حاصل کیے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی وزیراعظم نے آسٹریلوی کاروباری شخصیت جیمز بیکر سے 1 لاکھ 12 ہزار ڈالر مالیت سے زیادہ کے تحائف لیے۔

Case 2000

یہ معاملہ عبرانی ذرائع ابلاغ کو اِفشا کی گئی خفیہ بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور ایک اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" کے مالک ایرنن موزز کے درمیان ہوئی تھی۔

مذکورہ اخبار کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم کی کارکردگی کو سختی سے نکتہ چینی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ دونوں شخصیات کی بات چیت میں حریف اسرائیلی اخبار "اسرائیل ہایوم" کی سرکولیشن کو قانونی طریقے سے محدود کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا جس کا مالک یہودی ارب پتی شیلڈن ایڈلسن ہے۔ اس کے عوض یدیعوت احرونوت سے کہا گیا کہ وہ نیتن یاہو کے حوالے سے اپنے لہجے کی شدّت میں کمی لائے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اور ان کی اہلیہ سارہ کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ ان کا اشارہ وزیراعظم ہاؤس میں فضول خرچی اور ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کے حوالے سے سارہ کے خلاف تحقیقات کی بھی جانب تھا۔

ردود عمل

اس حوالے سے سامنے آنے والے ردود عمل نے نیتن یاہو کے سیاسی مخاصمین کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ اپوزیشن کی ایک جماعت کے سربراہ یئیر لبید کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنایا گیا کیوں کہ انہوں نے نیتن یاہو کے خلاف تحقیقات میں ایک اہم گواہ کے طور پر بیان دیا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ میں عرب رکن احمد الطیبی کا کہنا ہے کہ "اسرائیلی دائیں بازو کے حلقے ایک ایسا سربراہ چاہتے ہیں جو یہودی بستیوں کو تحفظ فراہم کرے اگرچہ وہ بدعنوان ہی کیوں نہ ہو۔ یہ فاشسٹ جماعتوں کا وتیرہ ہے"۔

الطیبی بے باور کرایا کہ عدالتی مشیر ہی نیتن یاہو کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ اس میں وقت لگے گا تاہم عوام کا حرکت میں آنا اس بات کا تعین کرے گا کہ نیتن یاہو رہتے ہیں یا رخصت ہو جاتے ہیں۔