.

گوانتا نامو حراستی مرکز کے پنجروں میں نئے شکار بند کرنے کے لیے تیار

گرفتار داعشی دہشت گردوں کو گوانتا نامو منتقل کیا جا سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سینیر امریکی فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ کیوبا کے جزیرہ گوانتا نامو میں قائم ’بدنام زمانہ’ امریکی حراستی مرکز میں نئے قیدیوں کو لانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے تاہم اس حوالے سے اعلیٰ حکام کی جانب سے کسی قسم کے احکامات جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ اپنے پہلے خطاب میں گوانتا نامو حراستی مرکز کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے بعد سنہ 2009ء میں امریکی صدر باراک اوباما کے گوانتا نامو حراستی مرکز کو بند کرنے کی کوششیں دم توڑ گئی تھیں۔

امریکی فوج کی جنوبی کمان کے کمانڈر ایڈمرل کورٹ ٹیڈ نے کانگریس کو بتایا کہ گوانتا نامو میں اس وقت41 قیدی موجود ہیں۔ اگر مزید قیدی بھیجے جاتے ہیں تو ہم انہیں رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک ہمیں کوئی عسکری حکم نہیں ملا ہے کہ ہمارے پاس مزید قیدی بھیجے جا رہے ہیں۔ نئے قیدیوں کو وہاں رکھنا ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

اُدھرامریکی حکام نے حراست میں لیے گئے داعش کے جنگجو کو جزیرہ گوانتا نامو کے حراستی مرکز میں منتقل کرنے پر غور شروع کیا ہے۔ ان میں وہ داعشی جنگجو شامل ہیں جنہیں شام میں امریکی حمایت یافتہ ڈیموکریٹک فورسز کی جانب سے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ گوانتا نامو قید خانے کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ یہ قید خانہ داعش اور القاعدہ کے جنگجوؤں کا ٹھکانہ رہے گا۔

واضح رہے کہ کیوبا کے گونتا نامو میں قید خانہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش کے دور میں القاعدہ جنگجوؤں کو رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ امریکا نے گیارہ ستمبر 2001ء کو ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں کےبعد دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی گئی تھی۔

گوانتا نامو سے قیدخانے میں امریکی فوج نے 800 جنگجوؤں کو ڈالا تھا جن میں سے بیشتر کو رہا کردیا گیا تھا۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے گوانتا نامو قید خانے کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔