.

ترکی عفرین میں شامی فورسز کے داخلے کا خیرمقدم کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی قصبے عفرین میں کرد فورسز اور اسدی فوج کے درمیان حکومت کی اتحادی ملیشیاؤں کی تعیناتی کے لیے ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے۔ایک کرد عہدہ دار کے مطابق اس سمجھوتے کا مقصد عفرین میں ترک فوج کی کرد فورسز کے خلاف کارروائی کو رکوانا ہے۔

دوسری جانب ترکی نے کہا ہے کہ وہ دمشق حکومت کی جانب سے عفرین سے کرد ملیشیا کے خاتمے کے لیے کسی بھی اقدام کا خیرمقدم کرے گا لیکن اگر شامی دستے کرد جنگجوؤں کے تحفظ کے لیے داخل ہوں گے تو ترک فوج کی کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

ایک اور شامی کرد عہدہ دار کا کہنا ہے کہ عفرین میں سوموار کے روز حکومت نواز فوجی دستوں کی کوئی آمد نہیں ہوئی ہے۔اس سمجھوتے پر اتوار کو اتفاق رائے ہوا تھا اور اس کا آج ہی باضابطہ طور پر اعلان کیا جانا تھا۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے شمالی شہر حلب میں موجود اپنے نمائندے کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ ’’ عوامی فورسز کی آیندہ چند گھنٹوں میں عفرین میں آمد شروع ہوجائے گی ۔وہ جارحیت کے مد مقابل اس کے مکینوں کی ثابت قدمی کی مدد کے لیے آ رہی ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ شامی حکومت نے گذشتہ ماہ ترک فوج کے عفرین میں ’’آپریشن زیتون کی شاخ‘‘ کی مذمت کی تھی اور کرد ستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے ) اور ڈیمو کریٹک یونین پارٹی ( پی وائی ڈی ) کے جنگجوؤں کے لیے حلب اور دوسرے شاہروں کی جانب جانے والی شاہراہیں کھول دی تھیں تاکہ انھیں اسلحہ اور کمک پہنچائی جاسکے۔

ترک فوج نے عفرین میں گذشتہ ماہ کرد جنگجوؤں پر فضائی حملوں اور سرحد پار سے گولہ باری کے بعد زمینی کارروائی شروع کی تھی ۔ترکی وائی پی جی کو ایک دہشت گر دگروپ قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ کرد گروپ ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں مسلح بغاوت کرنے والے گروپ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا اتحادی ہے اور دراصل یہ دونوں تنظیمیں ایک ہی ہیں۔