.

تُرک وزیر خارجہ اور عرب لیگ کے سکریٹری جنرل کے بیچ زبانی جھڑپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے شہر میونخ میں بین الاقوامی سلامتی کانفرنس میں اتوار کے روز ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو اور عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط کے درمیان زبانی "جھڑپ" دیکھنے میں آئی۔

تفصیلات کے مطابق ابو الغیط نے ڈھکے چھپے الفاظ میں شام کے علاقے عفرین میں ترکی کے فوجی آپریشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک عرب ریاست میں ترکی کی مداخلت کی جانب اشارہ کیا۔ اوگلو کی جانب سے اس کا جواب "متعصّب" انداز میں سامنے آیا۔

ترک وزیر کا کہنا تھا کہ "ہم نے اپنے دفاع کی خاطر مداخلت کی۔ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ اس حق کی ضمانت دیتی ہے"۔ انہوں نے چبھتے ہوئے طنزیہ انداز میں ابو الغیط کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ " ہم یہ امید کر رہے تھے کہ آپ کی عرب لیگ کا نظام اتنا مضبوط ہو گا کہ اس کے ایک رکن کو اپنے پانچ لاکھ کے قریب عوام کے قتل سے روک دے گا۔ کاش کہ آپ کا نظام اتنا طاقت ور ہوتا کہ آپ کو ایران اور روس سمیت دیگر ممالک سے یہ مطالبہ کرنے کی اجازت دیتا کہ وہ شام سے نکل جائیں"۔

غصّے سے بپھرے ترک وزیر خارجہ کی توپوں کا رخ واشنگٹن کی جانب بھی رہا۔ انہوں نے سابق وزیر خارجہ جان کیری کی موجودگی میں کہا کہ "آپ لوگ فلسطینیوں اور اردنیوں پر تو دباؤ ڈالتے ہیں مگر بیت المقدس کا مؤثر صورت میں دفاع نہیں کر رہے ہیں"۔

دوسری جانب عرب لیگ کے ترجمان محمود عفیفی نے اوگلو کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ترک وزیر کا جذباتی انداز میں گفتگو میں مداخلت کرنا "نئے عثمانی گروپ" کے اُن جذبات کی عکاسی کرتا ہے جو اُس کے دل میں عرب دنیا کے لیے موجود ہیں۔ عفیفی کے مطابق مسئلہ فلسطین کے متعلق اوگلو کی گفتگو عرب مواقف کو دُھندلانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔

عفیفی نے اتوار کی شام اپنے ایک اخباری بیان میں واضح کیا کہ "ابو الغیط نے اپنی گفتگو میں شامی اراضی پر ترکی کی مداخلت کے علاوہ شامی عوام کے خلاف تمام علاقائی اور بین الاقوامی مداخلتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم ترک وزیر نے ابو الغیط کی گفتگو پر بلا جواز سرزنش کی"۔

عفیفی نے زور دے کر کہا کہ عرب لیگ کے سکریٹری جنرل عرب اراضی پر کسی بھی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔ عرب لیگ بین الاقوامی قوانین سے ماورا ان مداخلتوں کو کسی طور بھی قانونی حیثیت نہیں دے سکتی۔