.

"اوبر" نے مراکش میں اپنا آپریشن اس لیے بند کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معروف بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کمپنی "اوبر" نے پیر کی شام مراکش میں اپنا آپریشن حتمی طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

مراکش میں اوبر سروس کا آغاز جولائی 2015 میں دو شہروں الدار البیضاء اور رباط میں ہوا تھا۔ تاہم ٹرانسپورٹ کے شعبے سے متعلق پیشہ ورانہ انجمنوں بالخصوص چھوٹی ٹیکسیوں کے مالکان کی جانب سے اسے "غیر قانونی" سروس شمار کرتے ہوئے اس کے خلاف شکایات کا سلسلہ جاری رہا۔

تقریبا 3 برس کام کرنے کے بعد کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پرجاری بیان میں بتایا ہے کہ "کمپنی مراکش میں اپنی تمام تر سرگرمیاں روک دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکام کے پاس ٹکنالوجی ایپلی کیشنز کو حالیہ ٹرانسپورٹ ماڈل میں شامل کرنے کے حوالے سے کوئی واضح ویژن موجود نہیں۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا قانونی فریم ورک بھی موجود نہیں جو سفر کرنے والوں اور ڈرائیوروں کے لیے محفوظ اور با اعتماد طور پر ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرے"۔ کمپنی نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ جب تک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں حقیقی اصلاح اور مثبت ماحول سامنے نہیں آتا اس وقت تک کمپنی آئندہ ہفتے سے مراکش میں اپنا آپریشن روک دے گی۔

واضح رہے کہ مراکش میں اوبر کمپنی کی سروس کو شہریوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر توجہ حاصل ہو گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں نوبت روایتی ٹیکسی مالکان اور اوبر گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے درمیان خون ریز جھڑپوں تک جا پہنچی۔ روایتی ٹیکسیوں کے ڈرائیور حضرات نے اوبر سروس کو اپنے روزگار کے لیے خطرہ شمار کیا۔