.

الغوطہ الشرقیہ میں پُرتشدد کارروائیوں پر آنتونیو گوٹیریس کی "گہری تشویش"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوٹیریس نے منگل کی شام ایک بیان میں شام کے علاقے الغوطہ الشرقیہ میں جارحیت میں اضافے پر اپنی "گہری تشویش" کا اظہار کیا ہے۔

شامی حکومت کی فوج نے دمشق کے قریب محصور علاقے پر شدید بم باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ منگل کے روز مزید 106 شہری اس خونی کھیل کا شکار ہو کر موت کی نیند سو گئے۔

گوتیریس نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ انسانیت کے بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کریں جس میں شہریوں کا تحفظ شامل ہے۔

اتوار کی شب سے اب تک 48 گھنٹوں کے دوران الغوطہ الشرقیہ پر بم باری کے نتیجے میں 250 افراد جاں بحق ہوئے۔ اقوام متحدہ کے اعلان کے مطابق اس دوران علاقے میں 6 ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان میں تین ہسپتال ناقابل استعمال ہو چکے ہیں جب کہ دو ہسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کے مطابق الغوطہ الشرقیہ میں 4 لاکھ کے قریب افراد فضائی بم باری اور توپوں کی گولہ باری کا سامنا کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے کی آبادی جو شامی حکومت کی فوج کے ہاتھوں محصور ہے، اسے سخت ترین حالات کا سامنا ہے جس میں ناقص اور ناکافی خوراک بھی شامل ہے۔

آنتونیو گوٹیریس کے مطابق الغوطہ الشرقیہ اُن سیف زونز میں سے ایک ہے جن کے حوالے سے گزشتہ برس مئی میں ماسکو، تہران اور انقرہ کی نگرانی میں معاہدہ طے پایا تھا، لہذا تمام فریق اس سلسلے میں پاسداری کا مظاہرہ کریں۔