.

ایرانی فورسز کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے تین صوفی دم توڑ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران میں پولیس کی مظاہرین پر فائرنگ سے زخمی ہونےو الے تین گنا بادی صوفی اسپتال میں دم توڑ گئے ہیں۔

ایک ویب گاہ ’’زیتون‘‘ نے بدھ کو اطلاع دی ہے کہ تہران میں پولیس نے سوموار کی شب تین گنابادی صوفیہ کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا تھا اور وہ منگل کی شب اپنے مہلک زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے تھے۔

ایرانی دارالحکومت میں سوموار کی شب مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں اور ان میں پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دسیوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔سکیورٹی فورسز نے سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا تھا۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے پولیس کے ایک ترجمان کے حوالے سے تین پولیس اہلکاروں اور بسیج ملیشیا کے دو ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ تین سو گنا بادی صوفیہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ایران میں سماجی روابط کی ویب گاہوں پر ایک تیز رفتار بس کی ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے جو جھڑپوں کے دوران میں پولیس اہلکاروں پر چڑھ دوڑی تھی۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بس کا ڈرائیور ایک گنابادی صوفی تھا اور اس کا نام محمد ثالث تھا ۔تاہم صوفیوں نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

تہران کے شمال میں گنا بادی صوفیوں نے نعمت اللہ ریاحی نامی ایک شخص کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔صوفی اپنے روحانی مرشد نور علی تابندہ کے گھر کے باہر جمع ہوگئے تھے ۔انھیں یہ اطلاع ملی تھی کہ سکیورٹی فورسز ان کے مرشد کو گرفتار کرنے والی تھیں۔

تہران کے پولیس سربراہ حسین رحیمی نے گنابادی صوفیوں کے اس خدشے کو دور کرنے کے لیے یہ اعلان کیا تھا کہ دارالحکومت میں ان کے خلاف کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ دو عشروں کے دوران میں ایران بھر میں گنابادی صوفیہ کے خلاف سکیورٹی فورسز نے پکڑ دھکڑ کی متعدد کارروائیاں کی ہیں اور ان میں سیکڑوں صوفیوں کو مختلف الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔