.

سزائے موت کے قیدی کو شہریت دینے پرایران کا سویڈن سےاحتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی حکومت نے جاسوسی کے الزام میں سزائےموت کا سامنا کرنے والے اسکالر احمد رضا جلالی کو شہریت دیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سویڈن سے احتجاج کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز تہران وزارت خارجہ نے سویڈن کے سفیر کو طلب کرکے احمد رضا جلالی کوشہریت دینے پر ان سے شدید احتجاج کیا۔

اس موقع پر ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک احتجاجی مراسلہ بھی سویڈش سفیر کو دیا گیا جس میں کہا گیا کہ ایران کےجوہری پروگرام کی جاسوسی کرنے والے ’مجرم‘ کو شہریت دینا اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے اور یہ سفارتی، سیاسی اور اخلاقی روایات کے خلاف ہے۔

خیال رہے کہ احمد رضا جلالی کو ایرانی پولیس نے اپریل 2016ء کو اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ اپنے اقارب سےملنے تہران آئے تھے۔ مسٹر جلالی سویڈن، بیلجیم اور دوسرے یورپی ملکوں میں مقیم رہے ہیں۔ حال ہی میں سویڈن کی حکومت نے ان کی جانب سے شہریت کے لیے دی گئی درخواست منظور کرلی تھی۔

احمد رضا جلالی اس وقت ایران کی ’ایفین‘ جیل میں قید ہیں جہاں انہیں جاسوسی اور ایرانی مفادات کے خلاف کام کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

خبر رساں ادارے’ارنا‘ کے مطابق ایرانی و زارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے تہران میں متعین سویڈش سفیر کوطلب کرکے ان سے احمد رضا جلالی کوشہریت دیے جانے پر شدید احتجاج کیا ہے۔

احمد رضا جلال پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور وہ مختلف طبی تحقیقی اداروں کے ساتھ بھی کام کرچکے ہیں۔

احمد رضا جلالی نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی کوجیل سے لکھے ایک مکتوب میں کہا ہے کہ ان پریورپی تحقیقاتی اداروں کے ساتھ کام کرنے اور ایرانی مفادات کے خلاف جاسوسی کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ ایمنسٹی اور دیگر عالمی تنظیمیں جلالی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرچکی ہیں۔