.

مشرق وسطیٰ امن بات چیت میں دوسرے ملکوں سے تعاون کریں گے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگر فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان دوسرے ملکوں کے توسط سے مفید امن بات چیت ہوتی ہے تو امریکا اس بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے ہرممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

منگل کو امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ھیذر ناورٹ سے جب پوچھا گیا کہ فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امن بات چیت کے لیے عالمی کانفرنس کے مطالبے پرامریکا کا کیا رد عمل ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم نے یہ محسوس کیا کہ فریقین میں امن مذاکرات مفید ثابت ہوسکتے ہیں واشنگٹن یقینی طورپر ان مذاکرات میں دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

مگرانہوں نے استفسار کیا کہ کیا امن بات چیت کا وقت آگیا ہے، مجھے ابھی اس کایقین نہیں تاہم مستقبل میں ایسا ممکن ہے۔

خیال رہے کہ منگل کو سلامتی کونسل کے اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے ’عرب امن‘ فارمولے کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نےمشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے رواں سال کے وسط میں عالمی امن کانفرنس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ فلسطین کو مستقل رکن کے طورپر تسلیم کرے اور سنہ 2002ء کو عرب ممالک کی طرف سے جاری کردہ امن فارمولے کو عملی جامہ پہنائے۔