.

ایران کی حوثیوں کے لیے میزائل امداد القاعدہ کے ہاتھ لگ سکتی ہے: سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں متعیّن سعودی سفیر محمد الجابر نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے حوثی ملیشیا کے لیے بیلسٹک میزائلوں کی امداد اور ان کی تیاری کی مہارت القاعدہ اور داعش ایسے دہشت گرد گروپوں کے ہاتھ بھی لگ سکتی ہے۔

برطانوی اخبار دا ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق محمد الجابر نے کہا کہ ’’ ایران یمن میں حوثی باغیوں کو صر ف ہتھیار ہی نہیں بھیج رہا ہے بلکہ وہ بیلسٹک میزائلوں کی ٹیکنالوجی کے بارے میں جانکاری بھی یمنیوں کو منتقل کررہا ہے‘‘۔

سعودی سفیر نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ’’ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری سے متعلق اس مہارت کو شام میں ملیشیا اور شاید القاعدہ اور داعش کو بھی منتقل کیا جاسکتا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ یمن میں مختلف قبائل آباد ہیں ۔ان میں سے ایک حوثیوں کا قبیلہ ہے جبکہ کسی اور قبیلے سے القاعدہ کا تعلق ہوسکتا ہے۔آپ انھیں علم اور مہارت منتقل کرسکتے ہیں اور شاید آپ اب اس وقت ایسا نہ کریں بلکہ ایک سال ، دوسال یا تین سال کے بعد ایسا کریں۔

سعودی عہدے دار پہلے بھی ایران پر میزائلوں کو مختلف ٹکڑوں اور حصوں کی شکل میں یمن میں اسمگل کرنے کے الزامات عاید کر چکے ہیں جہاں ایرانی ماہرین حوثی ملیشیا کی ان میزائلوں کو جوڑنے میں مدد دے رہے ہیں اور پھر حوثی جنگجو انھیں سعودی عرب کی جانب فائر کررہے ہیں۔