.

پروفیسر طارق رمضان کی مشکلات میں اور اضافہ، تمام سفری ریکارڈ سامنے آگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں دو عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار پروفیسر طارق رمضان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور 2009ء میں لیون میں منعقدہ ایک کانفرنس کے منتظمین نے ان کی پرواز اور جائے قیام سے متعلق دستاویزی ثبوت جاری کردیے ہیں جن سے طارق رمضان کا دفاع کمزور پڑ سکتا ہے۔

کرسٹیلی کے عرفی نام سے اپنی شناخت ظاہر کرنے والی ایک نومسلمہ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پروفیسر طارق رمضان نے فرانس میں ایک ہوٹل کے کمرے میں اس کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔اس عورت نے تفتیش کاروں کو یہ بتایا تھا کہ اس پر 9 اکتوبر 2009ء کی سہ پہر یہ حملہ کیا گیا تھا اورا س وقت ابھی دن کی روشنی تھی۔

ملزم پروفیسر کے وکلائے صفائی نے اس عورت کے بیان کو جھٹلانے کی کوشش کی تھی اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ 9 اکتوبر کو لیون کے سینٹ ایگژوپیرے ہوائی اڈے پر شام 6 بج کر 35 منٹ سے پہلے نہیں اترے تھے اور اپنی جائے قیام ہلٹن ہوٹل میں شام ساڑھے 7 بجے پہنچے تھے۔

’’مل جل کر رہنا ، اسلام فوبیا اور فلسطین ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس کانفرنس کے منتظمین نے پروفیسر طارق رمضان کے سفر کی تمام تفصیل جاری کردی ہے۔اس کے مطابق وہ دراصل دن سوا 11بجے لیون پہنچ چکے تھے۔یہ تفصیل کانفرنس کی منتظم یونین برائے مسلم نوجواناں ( یونین آف ینگ مسلمز) نے طارق رمضان کو بھیجی تھی۔انھیں اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت 15 ستمبر 2009ء کو دی گئی تھی۔

ان کے دفتر نے پہلے ایک ای میل کے ذریعے یہ کہا تھا کہ ان کی لندن سے لیون آنے والی پرواز میں نشست بُک کرائی جائے۔اس پرواز نے شام 6 بج کر 35 منٹ پر پہنچنا تھا۔پھر ان کے دفتر نے ایک دوسری میل بھیجی تھی ۔لی مسلم پوسٹ کے مطابق اس میں یہ درخواست کی گئی تھی کہ پروفیسر طارق رمضان میڈرڈ سے لیون جانے والی پرواز میں سفر کرنا چاہتے ہیں اور یہ پرواز دن سوا11بجے لیون پہنچی تھی۔

لی مسلم پوسٹ کے شائع کردہ شیڈول کے مطابق پروفیسر طارق رمضان نے اپنی آمد کے بعد شام 5 بجے تقریر کرنا تھی لیکن وہ رات قریباً 9 بجے تاخیر سے پہنچے تھے۔اگر یہ تفصیل درست ہے تو اس میں ان کے وکلاء کے بیان کردہ اوقات میں کئی گھنٹے کی تفصیل دستیاب نہیں ہے اور اسی سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔

مذکورہ عورت نے اپنی درخواست اور پھر عدالت میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’’جونھی میں ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوئی تو یہ شخص مجھ پر حملہ آور ہوگیا تھا۔اس نے تھپڑ رسید کیا۔مجھے بازوؤں میں بھینچ لیا،بوس وکنار کرنے لگا۔یہ مجھے بالوں سے پکڑ کر کمرے میں اِدھر اُدھر کھینچتا رہا تھا تاکہ مجھے باتھ ٹب میں پھینک سکے اور مجھ پر پیشاب کرسکے‘‘۔اس نے اپنے شکایت میں کہا تھا کہ وہ صبح کے وقت ہی وہاں سے نکل سکی تھی‘‘۔

گذشتہ سماعت پر عدالت میں پروفیسر طارق رمضان نے عورت کی عصمت ریزی اور جنسی حملے کی دوٹوک الفاظ میں تردید کی تھی اور کہا تھا کہ صرف بوس وکنار ہوا تھا اور انھوں نے اس کی صحت سے انکار نہیں کیا تھا۔ تاہم درخواست گزار عورت نے اپنے بیان کے حق میں کچھ اور بھی تفصیل بیان کی تھی لیکن آکسفورڈ کے پروفیسر نے قلم بند کیے گئے بیان پر دست خط سے انکار کردیا تھا۔

کرسٹیلی کا کہنا ہے کہ اس کو طارق رمضان کے نمبر سے اس واقعے کے بعد بہت سے ایس ایم ایس پیغامات ملے تھے ۔ان میں سے ایک واقعے سے اگلے روز 10 اکتوبر کو شام 7 بج کر 29 منٹ پر موصول ہوا تھا اور یہ ایک اہم پیغام تھا ۔اس میں انھوں نے تشدد پر ’’ معذرت ‘‘ ( سوری ) کی تھی اور لکھا تھا:’’ کیا آپ اور چاہتی ہیں؟مایوسی نہیں؟‘‘

پروفیسر طارق رمضان اس وقت فرانس کے دارالحکومت پیرس کے جنوب میں واقع فلیوری میروجیس جیل میں 2 فروری سے کرسٹیلی اور ایک اور عورت ہندہ عیاری پر جنسی حملے کے الزام میں بند ہیں۔ان کے خلاف ان سنگین الزامات کی تحقیقات جاری ہے اور انھیں اس کی تکمیل تک لمبے عرصے کے لیے زیر حراست رکھا جاسکتا ہے۔

وہ مصر کی کالعدم دینی وسیاسی جماعت الاخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کے پوتے ہیں۔وہ اس کیس سے قبل آکسفورڈ یونیورسٹی لندن میں معاصر اسلامی مطالعات کے پروفیسر تھے اور وہ 7 نومبر 2017ء کو ایک باہمی سمجھوتے کے تحت عارضی رخصت پر چلے گئے تھے۔آکسفورڈ میں دینیات کی یہ چیئر قطر کے سابق امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی کے نام پر قائم ہے اور قطر ہی اس کے لیے فنڈنگ مہیا کرتا ہے لیکن اس نے حال ہی میں کہا ہے کہ طارق رمضان قطر میں آنے کی زحمت گوارا نہ کریں ،انھیں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔