.

تین عشرے اکٹھے کام کرنے والے مسجد کے امام اور مؤذن کا ایک ساتھ انتقال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی القصیم گورنری کی ایک مسجد کے پیش امام اور مؤذن کے تیس سال تک اکٹھے کام کرنے کے بعد ایک ہی شب انتقال نے اہل علاقہ کو دکھی کردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق القصیم میں الرس کے مقام پر مسجد سعد بن معاذ الفوارہ کے امام خالد بن صالح العریمہ کی عمر 54 سال تھی جب کہ مسجد کے مؤذن سالم بن سلیمان العریمہ 81 برس کے تھے۔ دونوں ایک ساتھ مسجد کےامام اور موذن رہے اور تیس سال تک ایک ساتھ کام کیا۔ دونوں کو ایک ہی قبرستان میں‌ ایک دوسرے کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔

امام اور موذن دونوں العریمہ قبیلے سےتعلق رکھتے تھے۔ ان کے ایک قریبی عزیز نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ دونوں علم، تقویٰ، خیر اور بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ مسجد کے امام کے بیٹے خالد بن صالح العریمہ نے بتایا کہ ان کے والد گذشتہ تین سال سے کینسر کا شکار تھے۔

ان کا مسلسل علاج جاری رہا۔ شاہ فہد میڈیکل سٹی کے ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ صالح العریمہ تیس دن سےزیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ بیٹے نے بتایا کہ چند روز قبل ان کے والد نے سب کو جمع کیا اور وصیت فرمائی کے نماز کے معاملے میں کبھی غفلت کا مظاہرہ نہ کرنا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے والد الفوارہ میں سماجی اور فلاحی کاموں میں‌ بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔

مسجد کے مؤذن سالم العریمہ کو اچانک دماغ کا فالج ہوا جس پرانھیں اسپتال منتقل کیا مگر وہ جاں بر نہ ہوسکے اور انتقال کرگئے۔ ان کے ایک بیٹے کا کہنا ہے کہ والد ہمیشہ مسجد کےموذن رہے۔ انھیں صرف اتنا یاد ہے کہ جب ہم نے ہوش سنھبالا توہمارے والد مسجد میں اذان دیتے تھے۔