.

یمنی حوثیوں کی تعز میں گولہ باری سے تاریخی مسجد کو شدید نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شہر تعز میں حوثی ملیشیا نے تاریخی مسجد اشرفیہ پر ایک مرتبہ پھر گولہ باری کی ہے جس سے اس مسجد کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حوثی جنگجو اس سے پہلے بھی اس تاریخی مسجد کو دو مرتبہ اپنے حملوں میں نشانہ بنا چکے ہیں۔

مقامی شہریوں نے بتایا ہے کہ حوثی اس مسجد کے نزدیک واقع ایک مکان کو توپ خانے سے حملوں میں نشانہ بنا رہے تھے لیکن ان کے گولے مسجد کے مینار کو جا کر لگے ہیں جس سے اس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

مقامی شہریوں نے اس تاریخی مسجد کو باغیوں کے حملوں سے بچانے کا مطالبہ کیا ہے اور انھوں نے حوثی جنگجوؤں پر ملک کے تاریخی آثار کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے اور مساجد کے تقدس کا احترام نہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

مسجد اشرفیہ کو سلطان اشرف بن اسماعیل بن عباس نے 800 ہجری میں تعمیر کروایا تھا۔یہ تعز میں واقع نمایاں تاریخی عمارات وآثار میں سے ایک ہے ۔یمنی حکومت نے جولائی 2014ء میں اس مسجد کی تزئین وآرائش کا کام مکمل کیا تھا ۔اس کے چند ماہ کے بعد حوثیوں نے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی منتخب اور قانونی حکومت کے خلاف بغاوت برپا کردی تھی اور انھوں نے دارالحکومت صنعاء اور تعز سمیت بیشتر شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس مسجد کے احاطے میں ایک اسکول اور ایک قبرستان بھی واقع ہے جہاں یمن پر حکمرانی کرنے والے ایک خاندان بنو ر سول کے بادشاہ آسودۂ خاک ہیں۔ان کی 1229ء سے 1454ء تک یمن میں حکومت رہی تھی۔