.

امریکی فضاؤں میں غیر معمولی رفتار کے حامل "پراسرار طیارے" کا مُعمّا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انگریزی ویب سائٹ"The Drive" کی جانب سے اِفشا ہونے والے " آڈیو کلپس" سے انکشاف ہوا ہے کہ چند ماہ قبل امریکی فضاؤں میں پرواز کرنے والے جُثّے کا معمّا آج تک حل نہیں ہو سکا۔

یہ واقعہ 25 اکتوبر 2017ء کو امریکی ریاست اوریگن میں شام 4:30 بجے پیش آیا تھا۔ البتہ غیر معمولی رفتار سے پرواز کرنے والے اس طیارے کی شناخت معلوم کرنے کے حوالے سے کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔

مذکورہ پراسرار وجود کے نمودار ہونے کے سبب ریاست کے ایئر ٹریفک کنٹرول سینٹرز میں شدید تشویش کی صورت حال پیدا ہو گئی تھی۔ اس لیے کہ مذکورہ وجود سے رابطے یا جدید ٹکنالوجی کے ذریعے اس پر نظر رکھنا ممکن نہ ہوا بلکہ اوریگن کی فضاؤں میں اڑتے سفید رنگ کے اس وجود کا راستہ روکنے کے لیے F-15 لڑاکا طیاروں کو اڑان بھرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق حال ہی میں اِفشا ہونے والے آڈیو کلپس کے ذریعے اُس ہنگامی صورت حال کا انکشاف ہوا ہے جو اس پراسرار وجود کے راز کو جاننے کی کوششوں کے دوران چھا گئی تھی۔ اس اثنا میں اوریگن کی فضاؤں میں پرواز کرنے والے دو مسافر طیاروں کے کپتانوں کو بھی شدید تشویش لاحق ہو گئی تھی۔ بعد ازاں اس پراسرار وجود کے خود سے غائب ہو جانے پر مزید دہشت پھیل گئی۔

آڈیو کلپس کے مطابق "پراسرار طیارے" کو پہلی مرتبہ 37000 فٹ کی بلندی پر نظر آیا۔ تاہم اس وجود میں رابطے کا نظام نہ ہونے کے سبب کسی قسم کا رابطہ اور ریڈار پر اس کی موجودگی ممکن نہیں ہو سکی۔

پراسرار وجود کو نصف گھنٹے تک دیکھا گیا اور اس کے دوران اس وجود نے سیکڑوں میل کا فاصلہ طے کیا۔

پراسرار وجود کا معلوم ہونے کے صرف 27 منٹ بعد ہی پورٹ لینڈ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سےF-15 لڑاکا طیاروں کو روانہ کیا گیا تا کہ وہ اس "نامعلوم وجود" کا پتا چلا کر اس کا راستہ روکیں۔

امریکی قومی سلامتی کی سطح پر اس واقعے کو غیر معمولی اہمیت دی گئی اور کہا گیا کہ یہ پراسرار اڑتا وجود شہری ہوابازی کے لیے خطرے کا باعث تھا۔