.

لیبیا کی متعدد کمپنیاں اور شخصیات امریکا میں بلیک لسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خزانہ نے لیبیا کی متعدد شخصیات اور کمپنیوں کو ممنوعہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں بلیک لسٹ کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر باراک اوباما کے ایگزیکٹو آرڈر مجریہ 2016ء کے دوران حاصل ہونے والے اختیارات کے تحت وزارت خزانہ نے لیبیا کی کمپنیوں اور افراد کو بلیک لسٹ کیا ہے۔

وزارت خزانہ کے بیرون ملک فنڈنگ کی مانیٹرنگ کرنے کے ذمہ دار دفتر سے جاری شدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا کے چھ افراد، 24 کمپنیوں اور سات بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ امریکی شہریوں کو بلیک لسٹ کیے گئے افراد اور کمپنیوں کے ساتھ کسی قسم کے لین دین سے منع کرنے کے ساتھ امریکا میں موجود ان کے تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تازہ پابندیوں کی فہرست میں شامل ہونے والی کمپنیوں میں لیبیا، مالٹا اور اٹلی، لیبیا اور مالٹا کے افراد شامل ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2011ء میں سابق لیبی لیڈر معمر قذافی کی باغیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد عالمی سلامتی کونسل نے ملک کے تیل کو غیرقانونی طریقے سے استعمال کی شدید مذمت کرتے قدرتی وسائل کی لوٹ سیل روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ تیل کی اسمگلنگ نے لیبیا کی سیادت کو کمزور اور بلیک مارکیٹ کو مضبوط کیا ہے۔ لیبیا میں پیدا ہونے والی انارکی نے طاقت ور افراد کو مضبوط اور لیبیا کو بحیثیت ریاست کم زور کیا۔

خیال رہے کہ لیبیا میں تیل کی پیدوارا میں استحکام آیا ہے مگر ملک میں بغاوت سے قبل تیل کی یومیہ پیداوار ایک اعشاریہ چھ ملین تھی۔ ملک میں جاری فسادات کے باعث قدرتی وسائل کو حکومتی سطح پراستعمال کے بجائے لوٹ مار کے ذریعے چھینا جاتا رہا ہے۔