.

علی خامنہ ای کی سکیورٹی کا کمانڈر پراسرار طور پر لاپتہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے تحفظ پر مامور دستے کے کمانڈر جنرل وحید حقانیان تقریبا ایک ماہ سے لاپتہ ہیں۔ ذرائع نے غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ وہ زیرِ حراست یا پھر نظر بند ہیں۔

حقانیان کی روپوشی کے نتیجے میں مرشد اعلی کے کیمپ میں اضطراب کی موجودگی کے حوالے سے سوالات اور چہ مگوئیاں جنم لے رہی ہیں۔ ایرانی ویب سائٹ "سحام نیوز" کے مطابق حقانیان کو "مرشد اعلی کا دست راس" قرار دیا جاتا ہے۔

جنرل حقانیان آخری مرتبہ سوشل میڈیا پر گردش میں آنے والے ایک وڈیو کلپ میں ظاہر ہوئے تھے۔ وڈیو میں حقانیان کرمان شاہ صوبے میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران ایرانی صدر کے نائب اسحاق جہانگیری کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جہانگیری نے زلزلے میں لوگوں کے سروں پر منہدم ہو جانے والے گھروں کا ذمّے دار سابق صدر احمدی نژاد کو ٹھہرایا تھا کیوں کہ یہ مکانات ان کے دور حکومت میں تعمیر کیے گئے۔

حقانیان جو ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر بھی ہیں انہیں مختلف مواقع پر اہم ملاقاتوں کے دوران مرشد اعلی علی خامنہ کے پیچھے کھڑا ہوا دیکھا جاتا تھا۔ حقانیان کو ایسے جنرل کا خطاب دیا گیا جو مرشد اعلی کے سائے سے بھی علاحدہ نہیں ہوتا۔

جنرل وحید حقانیان طویل عرصوں تک خامنہ ای کے دفتر کے معاون اور ذاتی سکریٹری کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ انہیں 2009ء میں سبز تحریک کے بعد خصوصی طور پر ایران میں بھرپور رسوخ حاصل رہا اور وہ ایک با اثر شخصیت بن گئے۔

سوشل میڈیا پر بعض ایرانی حلقوں نے قیاس آرائی کی ہے کہ حقانیان کو بدعنوانی میں ملوث ہونے کے سبب گرفتار کیا گیا ہے جب کہ دیگر عناصر نے امکان ظاہر کیا ہے کہ حقانیان کی گرفتاری علی خامنہ ای کے دفتر میں اسپیشل سکیورٹی بیورو کے ڈائریکٹر علی اصغر حجازی کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے عمل میں آئی۔