.

ماسکو شام میں آگ بھڑکانے اور بجھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے: امریکی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج کی مرکزی کمان کے کمانڈر جوزف ووٹیل کا کہنا ہے کہ شام میں روس کے کردار کا نتیجہ عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس ایک ہی وقت میں "آگ بھڑکانے والے اور اسے بجھانے والے" کا کردار ادا کر رہا ہے۔ الغوطہ الشرقیہ میں ماسکو کی جانب سے یک طرفہ طور پر اعلان کر دہ مختصر دورانیے کی جنگ بندی ناکامی سے دوچار ہوئی۔

امریکی ایوان نمائندگان میں مسلح افواج کی کمیٹی کے اجلاس کے دوران امریکی عسکری کمانڈر نے کہا کہ "ماسکو ایک طرف سفارتی اور عسکری پہلوؤں سے آگ لگاتا ہے اور دوسری جانب اسی آگ کو بجھانے والے عملے کا کام بھی کرتا ہے۔ وہ شام میں تمام متحارب فریقوں کے بیچ کشیدگی اور تناؤ بھڑکا رہا ہے اور پھر ہر فریق کے مذاکراتی مواقف کو سبوتاژ اور کمزور کرنے کی کوشش میں تنازعات حل کرنے کے لیے منصف کا کردار ادا کرتا نظر آرہا ہے"۔

شامی حکومت کی فوج اور اس کے حلیفوں نے گزشتہ ہفتے کے دوران الغوطہ الشرقیہ پر شدید اور وحشیانہ بم باری کی۔ شام میں جاری جنگ کے دوران یہ اب تک کی شدید ترین بم باریوں میں سے ایک ہے۔ اس کے نتیجے میں سیکڑوں شہری جاں بحق ہوئے۔

گزشتہ روز روس کی جانب سے یومیہ پانچ گھنٹوں کی جنگ بندی کا مطالبہ بھی ناکام ہو گیا۔ مقامی آبادی کے مطابق بشار حکومت کے جنگی طیاروں نے سکون کے مختصر عرصے کے بعد الغوطہ الشرقیہ کے علاقے پر پھر سے بم باری کا سلسلہ شروع کر دیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ شہریوں کی مدد یا زخمیوں کا انخلاء نا ممکن ہے۔ بین الاقوامی ادارے نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے 30 روز کے لیے فائر بندی کو یقینی بنائیں۔