.

’’قطر عالمی قانون کا پاسدار یا دہشت گردی کا مددگار،ان میں سے ایک کا انتخاب کرے‘‘

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں چار ملکی عرب اتحاد کا قطری وزیر خارجہ کی تقریر کا جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب ،بحرین ، متحدہ عرب امارات اور مصر نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سینتیسویں اجلاس میں قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کی تقریر کے جواب میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کے مستقل مندوب عبید سالم الزعبی نے باقی تینوں ممالک کی جانب سے بھی یہ جواب دیا ہے۔

انھوں نے کونسل کے صدر کو مخاطب ہوکر کہا کہ نے قطری وزیر خارجہ نے دوسری مرتبہ آپ کی معزز کونسل کی توجہ اس سفارتی بحران کی جانب دلانے کی کوشش کی ہے جو انھوں نے خود ہی شروع کیا تھا۔انھوں نے اس ثانوی نوعیت کے بحران کو ایک بڑے بین الاقوامی بحران کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ بین الاقوامی توجہ حاصل کی جاسکے۔

اماراتی مندوب نے کہا: ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ اس چھوٹے سیاسی بحران کو کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح کی قیادت میں ثالثی کے عمل کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔ان کی کوششوں کو ہمارے ممالک کی قیادت کی مکمل حمایت حاصل تھی اور انھوں نے ان کو سراہا بھی تھا۔یہ اب بھی اس سیاسی بحران اور اس کے مضمرات کو حل کرنے کا بہترین چینل ہے۔

اماراتی مندوب نے کونسل کے صدر کے مخاطب کرکے مزید کہا ہے کہ قطریوں کو مثبت بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں میں یقین رکھنے اور مہذب دنیا کی طرح اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات رکھنے والی ایک ریاست یا مسلسل بین الاقوامی قانون اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق بین الاقوامی اور علاقائی کنونشنوں کی خلاف ورزی کرنے ،دہشت گردی کی مالی مدد اور حمایت کرنے والی ریاست میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔قطر بیک وقت ان دونوں کا انتخاب نہیں کرسکتا ۔

انھوں نے کہا: چاروں ممالک قطر کے بارے میں اس جانب توجہ مرکوز کرانا چاہیں گے کہ وہ میڈیا کے ذریعے بنیاد پرست اور دہشت گردی کے نظریات کی حمایت کررہا ہے ، منافرت آمیز تقاریر پھیلا رہا ہے اور تشدد پر اکسا رہا ہے۔ہمارے ممالک قطر سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کی تنظیموں کی حمایت اور مالی مدد سے فی الفور دستبردار ہوجائے اور اس ضمن میں اپنے کردار میں تبدیلی لائے۔

انھوں نے کونسل کے صدر سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس بین الاقوامی فو رم کو ایک ایسی جگہ نہ بنایا جائے جہاں دہشت گردی کو جواز عطا کرنے والے لوگوں کی میزبانی کی جاتی ہو۔

انھوں نے مزید کہا کہ قطر ہمیشہ انسانی وقار اور لوگوں کے حق خود ارادیت کے احترام کی بات کرتا ہے لیکن اس نے خود الاخوان المسلمون کی بین الاقوامی تنظیم کے لیڈروں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے حالانکہ ان سے دنیا نے ہمیشہ تاریک نظریہ ہی ملاحظہ کیا ہے اور انھوں نے انسانیت کو القاعدہ ، داعش اور النصرۃ محاذ ایسی دہشت گرد تنظیموں کے سوا کچھ بھی نہیں دیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس صورت حال میں ہمارے ممالک حکومتِ قطر کے بائیکاٹ کے لیے اپنے خود مختارانہ حق کو استعمال کرتے رہیں گے۔اس حق کی انھیں بین الاقوامی قانون بھی ضمانت دیتا ہے۔قطر کی جانب سے مثبت بین الاقوامی اصولوں کے عدم احترام اور ہمارے داخلی امور میں مداخلت کے جواب میں ہم اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے رہیں گے۔