.

روس کے جوہری میزائل امریکی عسکری صلاحیت کا مُنہ چِڑا سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے صدر ولادیمر پوتین نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک نے ایسے نئے جوہری ہتھیاروں کے تجربات کیے ہیں جن کو دشمن کا دفاعی نظام ناکام نہیں بنا سکتا۔ اپنے خطاب میں پوتین نے جوہری ہتھیاروں کو ڈیزائن اور تیار کرنے والے سائنس دانوں کو سراہتے ہوئے انہیں اپنے دور کا ہیرو قرار دیا۔

ماسکو میں اپنے سالانہ خطاب میں روسی صدر نے واضح کیا کہ مذکورہ نئے ہتھیار امریکا کے زیر قیادت مغرب کے میزائل دفاعی نظام کو بے فائدہ کر دیں گے۔ اس کا مطلب ہوگا کہ روس کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے حوالے سے مغربی ممالک کی کوششیں اختتام پذیر ہو جائیں گی۔

مغرب کی پالیسیوں کے برعکس نتائج

پوتین کے مطابق مغرب کی بعض پالیسیوں کے برعکس نتائج سامنے آئے۔ بعض عناصر نے گزشتہ 15 برس کے دوران ہتھیاروں کی دوڑ کو بھڑکایا۔ انہوں نے روس کے خلاف جانب دارانہ اقدامات کیے اور غیر قانونی پابندیاں عائد کیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ روس کے ترقی کے سفر میں رکاوٹ ڈالی جا سکے البتہ یہ تمام کارستانیاں روس کو قابو کرنے میں ناکام رہیں۔

مبصرین کے نزدیک روسی صدر کے لہجے میں ایک نیا موڑ نظر آ رہا ہے جو امریکی صدر ٹرمپ کے وہائٹ ہاؤس میں آنے کے بعد سے اب تک دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔

بین البراعظمی RS-28 Sarmat میزائل

امریکی ویب سائٹ"National Interest" کے مطابق کئی روسی ذرائع ابلاغ نے اپنی حالیہ رپورٹوں میں دعوی کیا ہے کہ روس کے نئے بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل امریکا میں اعلی ترین دفاعی نظام کو عبور کر سکتے ہیں۔ یہ وہ پیغام ہے جو ماسکو امریکا کے زیر قیادت مغربی کیمپ تک پہنچانا چاہتا ہے۔

ٹیکساس یا فرانس کے برابر تباہی

روسی ذرائع کے مطابق روس کا جدید میزائل RS-28 Sarmat امریکی ریاست ٹیکساس یا فرانس کے برابر رقبے کو روئے زمین سے مٹا سکتا ہے۔ نیا میزائل دہشت اور رعب کی اُن پالیسیوں کا ایک نمونہ ہے جو روسی انتظامیہ پھیلانے کی خواہش رکھتی ہے۔

تاہم دوسری جانب مغربی عسکری ماہرین نے باور کرایا ہے کہ RS-28 Sarmat میزائل کی اس مبالغہ آمیز قدرت کے اظہار کے نتیجے میں ایسا نہیں ہو گا کہ امریکی قیادت نجات کے لیے فوری طور پر جوہری پناہ گاہوں کے اندر دوڑ پڑے گی۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ کسی طور بھی یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ امریکی دفاعی نظام میزائل حملوں کے حوالے سے پیشگی اطلاع دے کر خبردار نہ کر سکیں۔ روسی افواج کے سامنے کوئی راستہ نہیں کہ وہ امریکی جوہری صلاحیتوں پر قابو پانے کے لیے کوئی اچانک حملہ کر سکیں۔

ماہرین کے مطابق امریکا بیلسٹک میزائلوں سے لیس ایسی آبدوزیں ہمیشہ تیار رکھتا ہے جو دشمن کی جانب سے کسی بھی اندھا دھند مہم جوئی کا مؤثر جواب دے سکیں۔

فضول رُوٹ

اگرچہ روس کا دعوی ہے کہ ماسکو کا مقصد میزائل حملے کے خلاف امریکی دفاعی نظام کو چکمہ دینا ہے۔ تاہم قطب جنوبی کے راستے اس طویل روٹ سے میزائل کا داغا جانا ایک فضول اور غیر ضروری امر نظر آتا ہے۔ اس بات کو ملحوظ نظر رکھنا چاہیے کہ امریکا کا میزائل دفاعی نظام اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا جیسے کسی بھی جوہری ہتھیاروں کے حامل ملک یا پھر مستقبل میں ایران کی جانب سے ممکنہ محدود حملوں کا فوری طور پر جواب دے سکیں۔

یہ بات واضح ہے کہ کسی بھی میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینے کے لیے بڑے اور بھاری بین البر اعظمی میزائلوں کا تیار کرنا حقیقت کی دنیا میں وجود نہیں رکھتا۔ ایسا لگتا ہے کہ روس نے اس نوعیت کے ہتھیار کو پھیلانے کے فیصلے میں واضح منطقی بنیاد کو پسِ پشت ڈال دیا۔

ٹرمپ کی ٹوئیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند ماہ قبل ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ "امریکا کو چاہیے کہ اپنی جوہری صلاحیتوں کو بڑے پیمانے پر وسعت دے"۔ امریکی جوہری حلقوں میں ٹرمپ کی ٹوئیٹ کے حوالے سے ممکنہ آپشنز کی صورت میں نئی بحث چھڑ گئی۔

امریکی عسکری مثلث

عسکری ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ اگر امریکا نے اپنی عسکری "مثلث" سے چمٹے رہنے کا فیصلہ کیا جو بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں ، میزائلوں اور بمبوں سے لیس لڑاکا طیاروں اور بیلسٹک میزائل SSBN داغنے کی صلاحیت رکھنے والی آبدوزوں پر مشتمل ہے تو روسی میزائل RS-28 کی تنصیب امریکا کو مجبور کر دے گی کہ وہ اپنے میزائل شکن دفاعی نظام کے مؤثر ہونے پر نظر ثانی کرے۔

اس نظام کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے غیر دانستہ طور پر اٹیمی جنگ بھڑکنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بالخصوص اگر روس اپنے بھاری بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔

اس منظرنامے کے پیش نظر عسکری ماہرین اس بات کی نصیحت کرتے ہیں کہ امریکی دفاعی نظام کی تثلیث کے روایتی ڈھانچے کو توڑے جانے کی ضرورت ہے۔ اس کے بدلے "دُہرے" نظام پر اعتماد کیا جائے جو جوہری بیلسٹک میزائل SSBNs کی حامل آبدوزوں اورB-21 Raider نوعیت کے 100 طیاروں پر مشتمل ہو۔ مذکورہ طیارے 2020ء کے اواخر میں سروس میں آجائیں گے۔

منہ چڑانا
ماہرین کے نزدیک روس کے عظیم الجثہRS-28 Sarmat میزائل امریکی عسکری صلاحیت کا منہ چِڑا سکتے ہیں جس کو روسی جوہری قوت کی صداقت کم کرنے کے لیے چند آسان اقدامات کی ضرورت ہے۔