.

عسکری صنعت کی "لوکلائزیشن" سے سعودی عرب کو 33 ارب ریال کی بچت ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت دفاع میں مقامی عسکری صنعت کو سپورٹ کرنے والے شعبے کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل عطیہ المالکی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے عسکری اخراجات کے 50% حصّے کی "لوکلائزیشن" کے نتیجے میں مملکت کو 32.5 ارب ریال کی بچت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچت کی اس خطیر رقم کو ملکی معیشت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

المالکی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مملکت میں عسکری صنعت کی سپورٹ کے لیے مسلح افواج کی نمائش AFED 2018 میں مقامی کمپنیوں اور بین الاقوامی کمپنیوں کے درمیان مجموعی طور پر 33 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے طے پانے کی امید ہے۔ ان میں 15 معاہدوں پر جمعرات کے روز دستخط ہو چکے ہیں۔

المالکی نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ عسکری شعبے میں فاضل پرزہ جات اور دیگر ساز و سامان کی تیاری کے حوالے سے سرماریہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تقریبا 800 سعودی کارخانوں نے درخواستیں پیش کی ہیں۔

المالکی کے مطابق غیر ملکی کمپنیوں نے طیاروں کے انجنوں کے فاضل پرزہ جات کی مرمت سے کے سلسلے میں مقامی کارخانوں کی تیاری اور ٹکنالوجی کی منتقلی کے واسطے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

المالکی نے بتایا کہ مذکورہ نمائش میں 68 سے زیادہ عالمی کمپنیاں شریک ہیں جن کا تعلق یورپ، امریکا، ترکی، کوریا، چین اور دیگر ممالک سے ہے۔ یہ کمپنیاں سعودی عرب کے مقامی مواد کے استعمال کے مقصد سے مقامی کارخانوں کے ساتھ شراکت داری پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔ المالکی نے تسلیم کیا کہ اس وقت مقامی صنعت کاری کو مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ان میں تکنیکی شعبے میں سعودی افرادی قوت اور ہنرمند افراد کی کمی اور مملکت میں مقامی کارخانوں کے درمیان تعاون کی کمزور نمایاں ترین ہے۔

المالکی نے باور کرایا کہ غیر ملکی کمپنیوں اور سعودی کارخانوں کے درمیان شراکت داری 3 بنیادی مقاصد ہیں۔ یہ مقاصد ٹکنالوجی اور جان کاری کی منتقلی ، رسد اور ترسیل کے دورانیے کو کم کرنا اور مالی بچت کو یقینی بنانا ہیں۔