.

علی خامنہ ای نے بشار الاسد کو "بڑا مزاحمت کار" قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے مرشد اعلی علی خامنہ ای نے شامی صدر بشار الاسد کے اپنے عوام کے خلاف وحشیانہ ظلم و جبر کو جواز کا حامل قرار دیا ہے۔ خامنہ ای کے مطابق بشار "ایک بڑا مزاحمت کار" ہے۔ واضح رہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بشار کی کارروائیوں کو جنگی جرائم قرار دیتی ہیں۔

جمعرات کے روز شامی حکومت کے وزیر اوقاف محمد عبدالستار السيد اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات کے دوران خامنہ ای کا مزید کہنا تھا کہ "بشار مستقل مزاجی کے ساتھ ڈٹا ہوا ہے جو کسی بھی قوم کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے"۔

ایرانی مرشد اعلی کے نزدیک شام اس وقت مزاحمت کی اولین صف میں ہے اور ہمیں "اس کی ثابت قدمی کو سپورٹ کرنا چاہیے"۔

یاد رہے کہ شامی حکومت کے وزیر اوقاف نے بدھ کے روز تہران میں ایرانی خارجہ تعلقات کی تزویراتی کونسل کے سربراہ کمال خرازی سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے دوران دمشق میں "کلّیہ ادیان" کا اعلان بھی کیا گیا۔

اس کلیہ کا اعلان خامنہ ای کے بین الاقوامی امور کے مشیر علی اکبر ولایتی کے جنوری میں کیے جانے والے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ ولایتی کے اعلان کے مطابق ایران کی اسلامی جامعہ "آزاد" کی شاخیں شام، عراق اور لبنان میں بھی کھولی جائیں گی۔ مبصرین نے اس اقدام کو ایران کے رسوخ کی توسیع شمار کیا ہے۔