بحرین : انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں 116 مشتبہ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

بحرین میں سکیورٹی حکام نے پے درپے انسداد ِدہشت گردی کی کارروائیوں میں 116 مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد دہشت گردی کے مختلف جرائم میں ملوث بتائے گئے ہیں۔ ان پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی ،اس کو عملی جامہ پہنانے ، دھماکا خیز مواد تیار کرنے ، اس کو ذخیرہ کرنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

ان افراد سے جامع تحقیقات کے نتیجے میں یہ پتا چلا ہے کہ مشتبہ دہشت گرد ایران کے پاسداران انقلاب کے تشکیل کردہ ایک نیٹ ورک کا حصہ تھے۔یہ نیٹ ورک بحرینی حکام ، سکیورٹی اہلکاروں اور تیل کی اہم تنصیبات کو حملوں میں نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ان کا مقصد نقضِ امن اور قومی معیشت کو نقصان پہنچانا تھا۔ تحقیقات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر قابو پالیا ہے اور ان مشتبہ دہشت گردوں کی نقل وحرکت کو محدود کردیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب اور ان سے وابستہ عراقی تنظیم عصائب اہل الحق اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اس نیٹ ورک کو دھماکا خیز مواد مہیا کرنے ، اس کو تر بیت دینے اور بحرین میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی براہ راست ذمے دار ہیں۔ بحرین میں اس نیٹ ورک کے تحت دہشت گردی کا سیل ایرانی پاسداران انقلاب کی براہ راست نگرانی میں کام کر رہا تھا۔

اس نیٹ ورک کے تین بڑے دہشت گرد لیڈر عقیل السری ، مرتضیٰ السندی اور قاسم المومن ہیں۔ یہ تینوں مشتبہ افراد بحرین میں دہشت گردوں کو بھرتی کرنے ، ان کے لیے آتشیں ہتھیاروں کا بندوبست کرنے اور دہشت گردوں کو دھماکا خیز مواد کی تربیت کے ذمے دار ہیں۔انھوں نے خفیہ ٹھکانے بنا رکھے تھے اور دہشت گردوں کو رقوم ، آتشیں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد مہیا کر رہے تھے۔

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار کیے گئے 116 افراد میں سے 48 ایران میں پاسداران انقلاب کی تربیت گاہوں اور عراق اور لبنان میں اس سے وابستہ گروپوں کے تربیتی مراکز سے تر بیت حاصل کی تھی۔

اس نیٹ ورک سے وابستہ دہشت گرد گروپ مندرجہ ذیل جرائم کے ذمے دار بتائے گئے ہیں :
*اسلحہ اور دھماکا خیز مواد ذخیرہ کرنے کے لیے گوداموں کا بندو بست ۔
* دہشت گردی کے حملوں میں نشانہ بنانے کے لیے ممکنہ جگہوں کی نگرانی ۔
*نقدی اور دھماکا خیز مواد کی ترسیل اور تقسیم ۔
* دھماکا خیز مواد کی تیاری ۔
* دہشت گردی کے حملے ۔

بحرین کے سکیورٹی حکام نے گرفتار کیے گئے ان مشتبہ افراد سے تحقیقات کے بعد ایسی متعدد جگہوں کا پتا چلایا ہے جہاں دھماکا خیز مواد کو چھپایا گیا تھا اور اس کو دہشت گردی کے حملوں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔سکیورٹی فورسز نے وہاں سے درج ذیل اشیاء پکڑی ہیں:

*757 کلو گرام یوریا نائٹریٹ ۔

*کلاشنکوف رائفلیں ، پستول ، گولیاں ، ڈیٹونیٹر ۔
* مقناطیسی بم اور گرینیڈز ۔
* بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے لیے دھماکا خیز مواد۔
* بارود اور دھماکا خیز مواد ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے گاڑیاں ۔
*راکٹ گرینیڈ سے چلائے جانے والے چار بم ، انھیں ہلکی بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔

فورینزک لیب کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق ان میں سے تین بموں کے اجزا پی جی 7 سے مشابہ پائے گئے ہیں اور ان کو ایران کی آرڈی ننس فیکٹریوں میں تیار کیا گیا تھا۔

بحرین کی نظامت عامہ برائے تفتیش جرائم اور فورینزک سائنس نے اس کیس کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوٹر کے سپرد کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں