حوثیوں نے 17' سیکڑوں یمنی فنا کے گھاٹ اتار دیے: انسانی حقوق کی رپورٹ

یمن کا شہر تعز ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سر فہرست رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مانیٹر کرنے والے الائنس نے ملک کے اندر 2017 کے دوران انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق تیسری سالانہ رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ رپورٹ جینوا میں انسانی حقوق کونسل کے 37 اجلاس کے موقع پر جاری کی گئی۔

اس رپورٹ میں یمنی الائنس نے یکم جنوری 2017 سے 31 دسمبر 2017 کے دوران ملک کے بیس شہروں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں۔ رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں 2260 شہری ہلاک جبکہ 2780 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں اس امر کا انکشاف کیا گیا ہے کہ حوثی باغیوں نے صرف دسمبر کے مہینے میں 206 شہری ہلاک جبکہ 227 کو زخمی کیا۔ رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں تعز شہر میں ریکارڈ کی گئیں۔

سال 2017 کے دوران یمن کے مختلف شہروں میں باغیوں کی جانب یمنی شہریوں کے خلاف جسمانی ایذا اور مظالم میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ الائنس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس ملک کے طول وعرض میں 157 اپوزیشن رہنما اور فوجی تہہ تیغ کئے گئے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ضمن میں رپورٹ نے بتایا کہ سال 2017 کے دوران 615 یمنی شہر لاپتا ہوئے جبکہ سرگرم انسانی حقوق کارکن، حوثی مخالف سیاستدان سمیت 4392 عام شہری اغوا کئے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں