شام اور عراق میں خرچ کی گئی پائی پائی واپس لیں گے: ایرانی عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی جانب سے عراق اور شام میں عسکری مداخلت اور سیاسی، سکیورٹی اور ثقافتی رسوخ کے ذریعے اربوں ڈالر لٹانے کے بعد اب تہران اس مداخلت کا پھل کھانے کے لیے پَر تول رہا ہے۔

اس حوالے سے ایران کی مجلس تشخيص مصلحت نظام کے سکریٹری محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک "شام، عراق اور کسی بھی جگہ خرچ کیا جانے والا ہر ڈالر واپس لے گا"۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر رضائی نے یہ بات منگل کے روز پاسداران انقلاب کے بیرونی سرگرمیوں کے ونگ القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے اعزاز میں منعقد تقریب کے دوران کہی۔

ایرانی ریڈیو اور ٹی وی کے نشریاتی ادارے "IRIB" کے مطابق رضائی نے اُن عناصر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو عراق اور شام سے ایرانی فورسز اور اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے انخلاء کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ رضائی کا کہنا تھا کہ "ہم شام اور عراق میں عسکری اور مشاورتی سپورٹ پیش کرنے کے ساتھ اپنے مفادات کو یقینی بنا رہے ہیں"۔

رضائی نے انکشاف کیا کہ ایران نے شام میں مالی امداد کے بقدر وہاں کانوں سے فاسفیٹ نکالا ہے اور اب وہ صنعت اور زراعت میں سرمایہ کاری کے ذریعے اربوں کمانا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ ایران 2012ء سے شام میں معرکوں کی قیادت کر رہا ہے۔ اس دوران اس نے پاسداران انقلاب اور اپنے زیر انتظام ملیشیاؤں کے 70 ہزار کے قریب جنگجوؤں پر خطیر رقم خرچ کی ہے۔

اس کے علاوہ ایران نے بشار الاسد کی ہمنوا ملیشیا کو بھی منظّم کیا جنہوں نے زمینی امور کی زمام سنبھال رکھی ہے اور ان کے عناصر کی تعداد 50 ہزار کے قریب ہے۔ یہ ملیشیا ایرانی باسیج فورس کی طرز پر ہے اور اس کے ارکان کو تنخواہ کی ادائیگی بھی پاسداران انقلاب کی طرف سے کی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی خاتون مندوب نِکی ہیلی نے 5 جنوری کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں انکشاف کیا تھا کہ شام میں بشار حکومت کی سپورٹ کے لیے ایران سالانہ 6 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کر رہا ہے۔

اس رقم میں عسکری ساز و سامان اور شامی فوج کے اخراجات کو بھی پورا کیا جاتا ہے۔ ایرانی نظام سالانہ ایک ارب ڈالر کے قریب شام میں پھیلی ہوئی شیعہ ملیشیاؤں کی تنخواہوں کی مد میں بھی خرچ کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں