.

قطر کے بحران کے حل کی کوشش، دو امریکی ایلچی خلیج کا دورہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دو ایلچی آئندہ ہفتے خلیجی ممالک کا دورہ کریں گے جہاں وہ قطری بحران کے خاتمے کے لیے نئی کوشش میں ایک پیغام بھی پہنچائیں گے۔ یہ دورہ مئی میں کیمپ ڈیوڈ میں متوقع خلیجی امریکی سربراہ ملاقات کی پیش بندی کے طور پر ہوگا۔

ادھر قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ممالک کے بیان کے مطابق دوحہ کی جانب سے اپنے بحران کو ایک سنگین اور بڑا بحران شمار کر کے بین الاقوامی فورموں پر فائدہ اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ امریکی نمائندوں کا خلیج کا دورہ ممکنہ طور پر قطر کا بحران حل کرنے کی آخری کوشش ہو گا۔

سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کا بائیکاٹ جاری رہنے کے سبب کیمپ ڈیوڈ میں سربراہ ملاقات کا انعقاد مشکوک نظر آ رہا ہے۔ دوسری جانب دوحہ کی جانب سے ڈالی جانے والی رکاوٹیں مذکورہ دورے کا کوئی نتیجہ سامنے آنے کی راہ میں حائل ہو سکتی ہیں۔

قطر کی جانب سے ہر بین الاقوامی فورم کو اپنے نام نہاد محاصرے کا رونا رونے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے آخری کوشش قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن کی جانب سے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے ضمن میں سامنے آنے والا بیان ہے۔ مذکورہ وزیر نے اقوام متحدہ کے دفتر میں اپنی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر یہ ہی راگ الاپا کہ ان کا ملک ظالمانہ محاصرے کا شکار ہے اور اس کے ذمّے دار افراد کا احتساب کیا جانا چاہیے۔

قطر کی وزارت خارجہ کی ترجمان لولوہ الخاطر نے بھی جنیوا میں ایک سیمینار کے دوران دنیا کی توجہ اپنے ملک کو درپیش بحران کی جانب دلانے کی کوشش کی۔ تاہم خالی کمرے میں گنتی کے چند صحافیوں کے سوا ان کی بات پر کان دھرنے والا کوئی نہ تھا۔ اس سیمینار کا مقصد دہشت گردی کی سپورٹ کے پس منظر میں چار عرب ممالک کے بائیکاٹ کے نتیجے میں قطر کی حالت زار کو دنیا کے سامنے باور کرانا تھا۔