.

احتجاج منظم کرنے کی پاداش میں ایران میں 50 طلباء کا ٹرائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکام نے 28 دسمبر 2017ء کے بعد ملک میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے منظم کرنے اور ان میں حصہ لینے کی پاداش میں 50 طلباء کا ٹرائل شروع کیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس کے آخر میں دو ہفتے تک جاری رہنے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ایرانی فوج اور پولیس کی فائرنگ سے 25 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس نے سیکڑوں شہریوں کو حراست میں لیے لیا تھا جن پر دوران حراست وحشیانہ تشدد کیا گیا۔ تشدد سے 11 افراد مارے گئے تھے۔

’اعتماد آن لائن‘ کے مطابق اصلاح پسند رکن پارلیمنٹ محمود صادقی نے کہا ہے کہ پولیس نے حراست میں لیے جامعات کے 50 طلباء کے خلاف حکومت کے خلاف احتجاج کی پاداش میں ٹرائل شروع کیا ہے۔ ان پر حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے اور پرتشدد احتجاج کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

محمود صادقی نے انکشاف کیا کہ بعض طلباء نے حکام سے رابطہ کر کے اپنی رہائی کے لیے ان کے ساتھ بات چیت بھی کی ہے تاکہ ٹرائل سے قبل رہائی کی راہ ہموار ہو سکے۔ خیال رہے کہ ایران میں حالیہ ہفتوں کے دوران اٹھنے والی احتجاجی تحریک میں طلباء کا کلیدی کردار ہے۔