.

دلخراش تصاویر: حوثی نشانچی کی گولی سے دو سالہ بچّی کی زندگی کا خاتمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوب مغربی شہر تعز میں ہفتے کے روز حوثیوں باغیوں کے ایک نشانچی کی گولی نے ایک یمنی بچی کی زندگی کا چراغ گل کر دیا ، بچی کی عمر صرف دو برس تھی۔

مقامی ذرائع کے مطابق مقتول بچی غفران فیصل عبدہ حوثی نشانچی کی گولی کا نشانہ اس وقت بںی جب وہ تعز کے مشرقی علاقے النجد میں اپنے گھر کے باہر کھیل رہی تھی۔

گذشتہ تین برس سے محصور تعز میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب باغی حوثی ملیشیا شہریوں کے خلاف وحشیانہ جرائم کا ارتکاب نہ کرتی ہو۔ حوثیوں کی جانب سے رہائشی علاقوں پر دانستہ طور پر اندھا دھند بم باری کی جاتی ہے اور اس کے ارکان بڑے اور چھوٹے اور مرد اور عورت کی تمیز کیے بغیر شہریوں کو نشانہ لے کر اپنی گولیوں کے ذریعے موت کی نیند سلاتے ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جنوری 2018ء کے دوران تعز شہر میں رہائشی علاقوں پر باغی حوثی ملیشیا کی گولہ باری کے نتیجے میں 21 شہری جاں بحق ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 5 بچے اور 4 خواتین شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کم از کم 72 شہری زخمی بھی ہوئے جن میں 18 بچے اور 10 خواتین تھیں۔