.

صنعاء میں یمنیوں کے حوثی ملیشیا کے خلاف مسلسل دوسرے روز مظاہرے

شہر ی گیس فلنگ اسٹیشنوں کی بندش اور ایندھن کی مہنگے داموں فروخت کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا ء میں شہری گیس فلنگ اسٹیشنوں کی بندش کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور انھوں نے اتوار کو مسلسل دوسرے روز حوثی ملیشیا کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

یمنی میڈیا کے ذرائع کے مطابق بیسیوں شہریوں نے دارالحکومت میں سیکریٹریٹ کی عمارت کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور گاڑیوں کے ٹائر جلائے ہیں۔ مظاہرین نے اس عمارت کے سامنے واقع مرکزی شاہراہ کو بند کردیا جبکہ حوثی ملیشیا نے شہر کے ان علاقوں میں اپنی مزید نفری بھیج دی ہے جہاں شہری احتجاجی جلوس نکال رہے ہیں۔

حوثی ملیشیا کی مظاہرین کو دبانے کے لیے جبرو تشدد کی کارروائیوں کے خلاف صنعاء کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا جارہا ہے۔حوثی ملیشیا نے مظاہرین کی پکڑ دھکڑ جاری رکھی ہوئی ہے جس پر شہری اپنے شدید غیظ وغضب کا اظہار کررہے ہیں۔

حوثیوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں گیس فلنگ اسٹیشن گذشتہ کئی روز سے بند کررکھے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو اپنے سلنڈر بھروانے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونا پڑتا ہے۔

بلیک مارکیٹ میں گیس کی قیمت دگنا تک ہو چکی ہے اور حوثیوں کے کنٹرول والے علاقوں میں سرکاری فلنگ اسٹیشنوں پر گیس کے 20 لِٹر سلنڈر کی قیمت بڑھ کر سات ہزار سے نو ہزار ریال تک ہوچکی ہے۔ قیمتوں میں اس ہوشربا اضافے سے قبل 20 لِٹر کے ایک سلنڈر کی قیمت چار ہزار ریال تھی۔

اب حوثی ملیشیا گیس سلنڈروں کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرکے لوگوں سے بھاری رقوم اینٹھ رہی ہے اور ایک مقامی جائزے کے مطابق حوثی ملیشیا گیسو لین سے یومیہ 15 لاکھ ڈالرز تک کما رہی ہے۔