.

امریکا کے بعد کون سا ملک مئی میں اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گوئٹے مالا کے صدر جمی موریلس کا کہنا ہے کہ ان کا ملک رواں سال مئی میں اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دے گا۔ انہوں نے یہ بات اتوار کے روز واشنگٹن میں ایک کانفرنس کے دوران بتائی۔

امریکی اسرائیلی امورِ عامّہ کی کمیٹی کی سالانہ پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے موریلس کا کہنا تھا کہ "میں راستے کی قیادت کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ان کے دلیرانہ فیصلے نے درست فعل انجام دینے کے لیے ہماری حوصلہ افزائی کی"۔

امریکی وزارت خارجہ نے 23 فروری کو اعلان کیا تھا کہ وہ مئی میں اسرائیل میں اپنا نیا سفارت خانہ بیت المقدس میں کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

گوئٹے مالا کے صدر نے 25 دسمبر کو ایک اعلان میں کہا تھا کہ اسرائیل میں ان کے ملک کا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کر دیا جائے گا۔ اس طرح وہ بیت المقدس سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع موقف کی سپورٹ کرنے والے پہلے صدر بن گئے۔

گوئٹے مالا امریکا کے بعد وہ دوسرا ملک ہے جس نے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی صدر نے گزشتہ برس دسمبر میں بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

گوئٹے مالا براعظم شمالی امریکا کے جنوب میں واقع ریاست ہے۔ اس کی آبادی تقریبا 1.58 کروڑ ہے۔