.

امریکی فوج کو جسمانی فٹنس کے بحران کا سامنا کیوں ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی نوجوانوں میں جسمانی فٹنس کی کمی امریکی فوج کے لیے کئی برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔ حال ہی میں Heritage فاؤنڈیشن کی جانب سے کیے جانے والے ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق 17 سے 24 برس کے 70% سے زیادہ امریکی نوجوان کئی وجوہات کی بنا پر عسکری خدمت کے لیے نا اہل ہیں۔ ان وجوہات میں سرفہرست جسمانی فٹنس ہے۔

امریکی روزنامے "Fayettville Observer" کی ویب سائٹ کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے امریکی فوج اپنے "جسمانی فٹنس کے کلچر کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے" کی خواہش رکھتی ہے۔

اس سلسلے میں"Men’sHealth" ویب سائٹ نے امریکی فوج میں "رينجرز" گروپ سے تعلق رکھنے والے دو سابق اہل کاروں سے گفتگو کی جو سخت ترین عسکری اور جسمانی تربیت حاصل کر چکے ہیں۔

ایڈرین بوننبرگر نے 2005ء سے 2012ء تک امریکی فوج میں بطور ایئربورن رینجر کوالیفائیڈ انفنٹری آفیسر کے طور پر کام کیا۔ ان کے مطابق ان کے اکثر ساتھی افسران اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ نسل کے نوجوانوں کی جمسانی ساخت نا مناسب ہے۔ تاہم افسران کی اکثریت صدیوں سے اس بات کو دہرا رہی ہے"۔

رینڈی کولنز سابق رینجر کوالیفائیڈ فرسٹ سارجنٹ اور امریکی فوج کے "رینجرز اسکول" میں صفِ اوّل کے تربیت کار ہیں۔ ان کے مطابق مذکورہ مسئلے کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ امریکی فوج میں بھرتی کے لیے جسمانی فٹنس کا ٹیسٹ جس کو مختصرا APFT کہا جاتا ہے، یہ خود جائزے کا ایک بدترین طریقہ کار ہے۔ یہ ٹیسٹ جو عموما ہر 6 ماہ بعد ہوتا ہے چند مرتبہ ڈنڈ پیلنے ، اُٹھنے بیٹھنے اور 2 میل کے قریب دوڑ لگانے سے زیادہ کچھ نہیں۔ کولنز کا کہنا ہے کہ "جب ایک 18 برس کا نوجوان بھرتی ہو کر بنیادی تربیت حاصل کرتا ہے تو اسے لڑنے کے قابل بنانے میں کئی ماہ کا وقت لگ جاتا ہے۔ آپ کو اپنے تربیتی پروگرام میں تیزی ، پُھرتی ، طاقت ، بوجھ برداشت کرنے کی فٹنس اور نفسیاتی فٹنس جیسے عوامل کو شامل کرنا ہو گا"۔

بعض دیگر عسکری عہدے داران نے"Fayettville Observer" کی ویب سائٹ کو بتایا کہ اکثر حالت میں فوجیوں کو ایسی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ صرفAPFT ٹیسٹ میں یکتا ہو جائیں۔ اس کا یہ نکلتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ تربیت کی صورت میں فوجی اہل کار زخمی ہو جاتے ہیں اور وہ لڑائی کے لیے مطلوبہ صلاحیت کے اہل نہیں ہو پاتے۔

ایڈرین بوننبرگر کے مطابق فوج کے لیے جسمانی فٹنس میں اہم ترین عنصر ذہنی برداشت کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "غیر معمولی جسمانی فٹنس کے حامل فوجی تیار کرنا ایک مخصوص سطح پر کوئی اہم امر شمار نہیں ہوتا"۔

امریکی روزنامے"Fayettville Observer" کی ویب سائٹ کے مطابق عسکری ذمّے داران اس وقت ایک نئے ٹیسٹ کا جائزہ لے رہے ہیں۔ فوجی اہل کار کی استعداد جاننے کے لیے ڈیزائن کیے جانے والے اس ٹیسٹ کو مختصرا SRT کہا جاتا ہے۔ اس میں لڑائی کے قابل بنانے کے لیے بعض مزید مشقوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس ٹیسٹ میں 105 کلو گرام وزن کے ساتھ Tire Flip ، 110 کلو گرام وزن کے ساتھ فرضی ڈھانچے کا کھینچنا ، سوا دو میٹر اونچی دیوار کے ذریعے ریت کے بیگز پر سے چھلانگ لگانا ، ریت کے بیگز کو صفوں میں رکھنا اور 2.5 کلو میٹر فاصے تک دوڑنا شامل ہے۔ اس دوران فوجیوں کو مکمل فوجی وردی اور پورے جسم کی حفاظت کے لیے ڈھال کو پہن کر رکھنا ہوتا ہے۔

البتہ کولنز اس بات کے قائل نہیں کہ "من مانے معیار" وضع کرنا فوجی اہل کار کی لڑائی کی استعداد جانچنے کا کوئی بہترین طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہSRT یقینا خصوصی آلات اور سامان کا متقاضی ہو گا اور ہر فوجی اڈے پر یہ اشیاء دستیاب نہیں ہوں گی جب کہ اس میں شامل بعض مشقیں فوجیوں کو زخمی بھی کر سکتی ہیں۔

کولنز کے مطابق "خود لڑائی کے سوا کوئی طریقہ نہیں جو فوجی کو لڑائی کے حالات کے لیے تیار کر سکے۔ ایک فوجی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ بنا سوئے 30 گھنٹوں کے گشت کے بعد تمام تر ہتھیاروں اور سامان کے ساتھ اونچی دیوار پر چڑھے۔"

کولنز نے کہا کہ "شاید تربیت اور تیاری مطلوبہ جسمانی فٹنس کے قریب تو پہنچا دے گی تاہم 100% تک قطعا نہیں"۔