.

بھارت کے زیر انتظام ریاست کشمیر میں 6 افراد کی شہادت کے بعد کرفیو نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظام ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر میں فوجیوں نے فائرنگ کرکے چھے افراد کو شہید کردیا ہے۔اس واقعے کے بعد بھارتی حکام نے سوموار کے روز اسکول ،کاروباری مراکز بند کردیے اور ریاست کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی۔

بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست کے جنوبی ضلع شوپیاں میں اتوار کی شب ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد جھڑپ میں چار افراد مارے گئے ہیں۔

مسٹر کالیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مرنے والوں میں ایک مشتبہ مجاہد تھا اور جائے وقوعہ سے ایک ہتھیار بھی ملا ہے۔تین افراد کی لاشیں اس سے تھوڑے فاصلے پر کھڑی ایک کار سے برآمد ہوئی تھیں ۔فوج نے ان افراد کو مزاحمت کاروں کا ساتھی قرار دیا ہے لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس دعوے کی تحقیقات کررہی ہے۔

پولیس کو ایک اور کار سے ایک شہری کی لاش ملی ہے۔سوموار کو اسی علاقے سے ایک اور لاش ملی ہے ۔پولیس نے اس کی شناخت بھی مشتبہ جنگجو طور پر کی ہے لیکن اس سے کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا تھا۔

بھارتی فوج کی اس تشدد آمیز کارروائی کے خلاف علاقے کے لوگوں میں سخت غم وغصہ پایا جارہا ہے اور انھوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام مہلوکین عام شہری تھے اور وہ ہرگز بھی مجاہد یا لڑاکا جنگجو نہیں تھے۔

وادیِ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائی میں ان افراد کی شہادت کے خلاف کل جماعتی حریت کانفرنس نے مکمل ہڑتال کی اپیل کی تھی۔اس کے پیش نظر بھارتی حکام نے اسکولوں، کاروباری مراکز اور دکانوں کو بند رکھنے کا حکم دیا تھا اور انٹرنیٹ کی سروسز کو معطل کر دیا تھا۔

وادیِ کشمیر میں شہری بھارتی فورسز کی کارروائیوں میں مزاحمت کاروں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کے لیے جلوس اور ریلیاں نکالتے رہتے ہیں اور وہ کرفیو کو بھی توڑ دیتے ہیں۔ کرفیوکے دوران میں ریاست کے شہروں اور قصبوں میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں جو شہریوں کی نقل وحرکت کو محدود اور کاروبار زندگی کو عملی طور پر مفلوج کردیتے ہیں۔