.

لیبی شہری نے اپنی زمین سے گذرنے والی تیل پائپ لائن کیوں بند کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے ایک مقامی باشندے نے اپنی چھ ایکڑ اراضی سے گذرنے والی تیل پائپ لائن بند کرکے سب کو حیران کر دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ تیل پائپ لائن سے اس کی قیمتی زمین بنجر ہونے کے ساتھ ساتھ کوڑے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی ہے حالانکہ اس کی اراضی سے گذرنے والی یہ پائپ لائن یومیہ تین لاکھ 40 ہزار بیرل تیل سپلائی کر رہی ہے جس کی مالیت 1 کروڑ 75 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔

اپنی نوعیت کا یہ عجیب وغریب واقعہ حال ہی میں پیش آیا۔ اس واقعے نے لیبیا میں تیل کی پیداوار میں خلل سے متعلق کئی طرح کے سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد لیبیا کی تیل پیداواری فاؤنڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی سپلائی میں تعطل کے باعث ملک کو چار سال کے دوران ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔

مغربی لیبیا کے رہائشی حسن محمد الھادی نے کہا کہ اس نے اپنی زمین سے گذرنے والی الشرارہ آئل فیلڈ کی تیل پائپ لائن اس لیے بند کی ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں اس کی قیمتی اراضی کو نقصان پہنچ رہا تھا۔ اس آئل فیلڈ سے سالانہ تین ارب بیرل تیل نکالا جاتا ہے جب کہ اس کی یومیہ پیداوار تین لاکھ چالیس ہزار ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ حسن الھادی نے اپنی اراضی سے گذرنے والی تیل پائپ لاین بند کی ہے۔ گذشتہ برس بھی اس نے ایسا ہی کیا تھا تاہم ثالثوں کی طرف سے زور دیے جانے اور اراضی کو کوڑے سے صاف کرنے کے بعد 20 روز سے جاری تعطل ختم کر دیا گیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ جس وجہ سے ہم نے پچھلے سال تیل پائپ لائن بند کی تھی اسی سبب سے اس بات بھی بند کی ہے۔

خیال رہے کہ لیبیا کی آئل فاؤنڈیشن پچھلے برسوں کے دوران بار بار آئل فیلڈز اور بندرگاہوں کی بندش اور اس کے نتیجے میں قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصانات پر تنبیہ کرتی رہی ہے۔

گذشتہ برس اگست سے ستمبر کے درمیان یہ آئل فیلڈ بند رہی تھی جس کے باعث 30 کروڑ آٹھ لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ الشرارہ آئل فیلڈ کے ساتھ ساتھ طرابلس کے مغرب میں واقع 45 کلو میٹر دور الزاویہ آئل ریفائنری سب سے زیادہ حملوں اور بندش کا سامنا کر چکی ہے۔